
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
کنفیوشس مذہب عیسایئت سے 550 سال پُرانا اور عیسائی مذہب اسلام سے 610 سال پُرانا ہے۔کنفیوشزم ایک چینی فلسفی اور سماجی رہنما سے شروع ہوا جبکہ عیسایئت حضرت عیسٰی علیہ السلام اور اسلام حضرت محمد ﷺ سے منسوب ہے۔ آج تک عالمی سطح پرانسانوں کو دُنیاوی امور چلانے کے لیئے جن نظاموں سے واسطہ پڑا ہے اُن میں مغربی نظام، کمیونسٹ نظام اور اسلامی نظام ہیں۔پوری دُنیا کے دوحصےمشرق اور مغرب عالمی نظاموں کے حوالے سے اہم ہیں کیونکہ یہیں سے عالمی نظاموں نے جنم لیا ہے اور ان دو طرح کے نظاموں کی جنگ سدا سے جاری ہے۔ ان تینوں نظاموں میں کمیونزم اور اسلام مشرق میں وارد ہوئے جبکہ مغربی نظام جسے عیسائی دُنیا بھی کہا جاسکتا ہے اس کا آغاز مغربی دُنیا سے ہوا۔ ایک خاندان سے لیکر ایک سوسائٹی اور سوسائٹی سے لیکر پوری دُنیا کے امور کو چلانے کے لیئے کسی بھی اجتماعی نظام کے تین عناصر ہوتے ہیں۔ ان عناصر میں معاشیات، طرز حکومت اور ان دونوں سے جنم لینے والی تہذیب شامل ہوتے ہیں ۔
اسلامی نظام کا علم سعودی عرب سے بلند ہوا جبکہ کمیونزم کا علم چین نے تھاما۔ اسی طرح مغربی عالمی نظام کا علم پہلے برطانیہ کے ہاتھوں میں تھا جسے جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ نے تھام لیا۔ جدید مغربی نظام میں جسمانی اور دُنیاوی امور کو مذہبی اور روحانی امور سے الگ کردیا گیا ہے۔ جبکہ دونوں مشرقی نظاموں میں جسم اور روح کے معاملات یکجاہ تصّور کیئے جاتے ہیں۔ مشرقی تہذیب کنٹرولڈ جبکہ مغربی تہذیب لبرل، ہائپر اور الٹر ماڈرن ہے۔ اور اب شاید ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے مغربی تہذیب نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اگر ان عالمی نظاموں کے تین عناصر (معیشت، طرز حکومت اور تہذیب) کا تجزیہ کیا جائے تو معاشی طور پر سُودی نظام مغربی ہے اور کمیونزم کو اس سے کوئی اختلاف نہیں جبکہ اسلامی معاشی نظام اس سے مُتصادم اور ہر وقت حالت جنگ میں ہے۔ جہاں تک طرزِ حکومت کی بات کی جائے تو مشرقی اور مغربی نظاموں کی اخلاقیات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔کمیونسٹ نظام میں مذہب کی بجائے چینی فلسفی کنفیوشس کے افکار ہیں جبکہ اسلامی اور مغربی نظام دونوں میں مذہب کا بڑا عمل دخل ہے۔
پوری دُنیا پر کنٹرول اور بالادستی کے لیئے نظام کے تینوں عناصر (معیشت، طرز حکومت اور تہذیب) میں بالا دستی کی جنگ میں مغربی دُنیا ہائپر موڈ میں کام کرتی ہے جبکہ چین تحمل، تدّبر اور گہرائی سے معاملات ہینڈل کرتا چلا آیا ہے۔ عرب ورلڈ اور مغربی ساز باز کے نتیجے میں اسلامی نظام کاشیرازہ “خلافت عثمانیہ ” کے خاتمے کے ساتھ ہی بکھر گیا تھا اور تب سے لیکر آجتک اسلامی نظام کے فالوورز کبھی چین تو کبھی مغربی طاقتوں کے حلیف اور ماتحت کے طور پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ مذہبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو اسلامی دُنیا نے ہمیشہ مغربی عالمی طاقتوں کا ساتھ اُن کے “اہل کتاب” کے حامل ہونے کی وجہ سے دیا ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مغربی دُنیا بھی جانتی، مانتی اور تسلیم کرتی ہے کہ آخری عالمی جنگ اورحتمی معرکہ دراصل عیسائیت و یہودیت کے پیروکاروں اور مُسلمانوں کے درمیان ہی ہونا ہے۔ امریکہ “اہل کتاب” کارڈ جو آجکل “ابراہم اکارڈ” یعنی معاہدہ ابراہیمی کے ذریعے ایک دفعہ پھر چین اور روس کا مقابلہ کرنے کے مُسلمانوں کو ساتھ ملانا چاہتا ہے۔
تیسری عالمی جنگ کی صف بندی تقریباً ہوچکی ہے کیونکہ اس جنگ کو ایک ہی صورت میں ٹالا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے دل سے پوری دُنیا پر کنٹرول اور قبضے کا سوار بھوت اُتر جائے جو فی الحال نظر نہیں آرہا۔ کیا اسلامی ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی امریکی کوششیں کامیاب ہوں گی؟ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ وہ اسلامی ممالک جنہوں نے امریکہ یا مغربی دُنیا کا ماضی میں ساتھ دیا وہاں سوائے ملوکیت، غربت، قرضہ اور بُنیادی سہولتوں کے فقدان کے علاوہ عوام کے ہاتھ کُچ نہیں آیا۔ عرب ممالک اور اس کے عوام کو تیل اور گیس کی دولت کی وجہ سے جو استثنٰی حاصل تھا وہ بھی ایران۔ اسرائیل اور امریکہ جنگ کی وجہ سے عرب ممالک کے لیئے خطرے کی گھنٹی بجا چُکا ہے۔ اسلامی ممالک کے حُکمران بھی مخمصے کا شکار ہیں کیونکہ اُن کی عوام سے سمت الگ ہوچُکی ہے اور وہ اپنے حکمرانوں کومغربی استحصالی نظام کے ایجنٹ نظر آتے ہیں۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی لوٹ گھسوٹ اور اس لوٹ گھسوٹ میں عالمی استحصالی ادارے آئی ایم ایف کو اُس کا شیئر عوام کا خون نچوڑ کر دینے کی وجہ سے عوام کے دلوں میں نفرت اور بغاوت عام ہے۔
بھوک وافلاس کے شکار اور بُنیادی سہولتوں سے محروم عوام مذہبی منافرت پھیلانے والے یا سیاست، علاقائیت کے نام پر اُن کو بے وقوف بنانے والوں سے مُتنفر ہے۔ اسلامی دُنیا میں مذہبی نفرت اور اختلافات کے بیج بونے میں بھی عرب ممالک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی مرکز ہونے کی وجہ سے مخصوص فرقے کی پروموشن کی سعودی کوشش تو کافی کامیاب رہی لیکن اُس کے امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ سے نہ صرف دیگر فرقوں بلکہ جس فرقے کو اس نے پروموٹ کیا وہ بھی سعودی عرب سے آج نالاں ہے۔ اسلامی ممالک کی اشرافیہ نے مذہب کو چندے،خیرات اور زکواة پر چھوڑدیا جبکہ مغربی افکار کی پروموشن کو حکومتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہمیشہ اُس پر زرِ کثیر استعمال کی جس کی وجہ سے آج مذہبی قوتیں بھی ان حکمرانوں سے نالاں ہیں۔ اپنے اندر پھیلے انتشار کی وجہ سے عالمِ اسلام آنے والے وقت میں عالمی سیاسی سطح پر کیا کردار ادا کرے گا؟ کُچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ لیکن یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے تو عالم اسلام مُتحد ہونے کی بجائے دو حصوں میں بٹ جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی تہذیب اس وقت پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چُکی ہے اور سُودی نظام کے سامنے بھی پوری دُنیا سرنڈر کر چُکی ہے لیکن طرز حکومت کے لیئے مغربی طاقتوں نے سیکولر جمہوریت کا سراب دُنیا کو دکھایا تھا اسے پوری دُنیا اتفاق نہیں کرتی۔ جس کی بُنیادی وجہ وہ مغربی منافقت ہے جو سیکولر جمہوریت کا پرچار تو کرتی ہے لیکن مُفاد کی خاطر ہمیشہ ڈکٹیٹرز کے ساتھ تعلقات میں خوش رہتی ہے۔ خاص طور پر تیسری دُنیا کے وہ حکمران جو امریکہ کا ساتھ دیں وہ اپنے مُلک میں جو مرضی ہے ظلم و بربریت کریں امریکہ کو کوئی فکر نہیں جبکہ یہی ٹُول ہر اس ملک کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جو امریکہ مُفادات کے ماتحت کام کرنے سے انحراف کرے یا امریکی مخالفت کرے۔ معروضی حالات بتا رہے ہیں کہ امریکی طاقت زوال پذیر ہے جبکہ چین اس کی جگہ لینے والا ہے۔ اس امر کا اظہار تیس سال پہلےسے کئی مُفکر کرتے چلے آئے ہیں۔ عالم اسلام میں سب سے زیادہ طاقتور اور واحد ایٹمی اسلامی طاقت کا حامل مُلک پاکستان کس جانب کھڑا ہوگا اس کا فیصلہ ابھی کرنا ناممکن ہے۔
بین الاقوامی معیشت بریٹن ووڈ سسٹم اور پیٹرو ڈالر سے ہوتی ہوئی کرپٹو کرنسی کی جانب گامزن ہے سُودی نظام کو بین الاقوامی برادری تسلیم کرچُکی ہے۔ ماسوائے اسلام، تمام مذاہب اور مذہبی افکار مغربی تہذیب میں گُم ہوچُکے ہیں۔ مغربی ہاپئر لبرل کلچر کی برتری کی وجہ سے عالمی سطح پر سماجی اخلاقیات کا جنازہ اُٹھ چُکا ہے۔ مغربی سیکولر جمہوریت کا مکروہ چہرہ بھی ساری دُنیا کے سامنے واضح ہوچُکا ہے۔ نئے ورلڈ آرڈر میں دُنیا کی واحد ایٹمی اسلامی طاقت “پاکستان” کا بڑا اہم رول ہے لیکن اس کے اندر جو خلفشار ہے اس میں کُچھ حصہ پاکستانی حکومتوں اور کُچھ عالمی نظام کی جنگوں میں مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے ہے۔ اب وقت مناسب ہے کہ پاکستان اپنی اکانومی کو کنٹرول کرلے لیکن ایسا کرنا اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان کے اندر سیاسی خلفشار کم نہیں ہوتا۔ کیا یہ سارا عالمی کھیل پاکستانی عوام سمجھ سکتے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں۔ پاکستان کو اب اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ پاکستانی سول اور ملٹری قیادت کے رویے کی تبدیلی ہے۔ ایک ایسا رویہ جس میں قیادت مفلوک الحال عوام کی بجائے اب خود قربانی دے ورنہ پاکستان کا حال آج بالکل وہی ہے جو روس کا ٹوٹنے سے پہلے تھا۔