
*,کیا جاپانی قوم جنت کی حقدار ہو گی* ؟
*پاکستانی قوم تو جنت سے بیزار دکھتی ہے*
کبھی کبھی کچھ تحریری دل کو چھو جاتی ہیں، زندگی اور سوچ کا زاویہ تک بدل دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسی عجیب صورتحال پے، لیکن درحقیقت عجب حقیقت کی غضب کہانی بن چکی ہے۔ آخر کے کچھ حصے میں ایسی ہی ایک انجان تحریر کو بھی شامل کیا ہے۔
تحریر آخر میں بیان کروں گا لیکن اس وقت اس سوچ کی گہرائیوں سے باہر نکلنا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ ہم کیسے جنت کے طلب گار ہیں جو نہ سردار جنت جناب حسنین کریمین علیہ السلام کی تعلیمات و فلسفہ کا اثر لیتے ہیں اور نہ وہ تعلیمات جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید کے زریعے ہم تک پہنچائے اور اس کے حبیب مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت مبارکہ اور ہماری تربیت کے لیے ہمیں سکھائے اور بارہا مرتبہ تلقین بھی فرمائی، ایک بار سکون سے بیٹھ کر سوچیں کہ ان پہ ہم کتنا عمل کرتے ہیں؟
مسلمانوں خصوصاً پاکستان کے بدعتی، گمراہ، اور مردہ ضمیر بکھرے ہوئے اصل دین اسلام سے کوسوں دور، مسلمانوں نے تو جیسے سب احکامات کو تقریباً درگزر ہی کر دیا ہے، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم عشق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعویدار تو بنتے ہیں لیکن سوچیں کہ ان کے جو احکامات ہمیں ملے تھے ہم نے نہیں انہیں یکسر ہی بھلا دیا، بلکہ ترق کر دیا، ان پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے ان کے بارے میں سوچنا تک چھوڑ دیا کہ ہم اپنی بد اعمالیوں، بد کرداریوں، گمراہیوں، خود فریبیوں، خوش فہمیوں، خود کے اپنے نے نئے عقائد، اپنے ہی مخصوص کرداروں کو اپنا رہبر و رہنما مان لیا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی مرشد و رہنما کی قطعاً ضرورت ہی نہیں لیکن اس کے باوجود ہم انتہائی اطمینان سے صغیرہ ہو یا کبیرہ، گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں کہ صرف کلمہ گو مسلمان ہونے کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روز محشر اپنے امتیوں کے گناہوں کی بخشش اللّٰہ تعالیٰ سے کرا کر سب کو جنت الفردوس میں داخل کروا دین گے۔
اصل سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم صرف کلمہ پڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی کہلانے کے قابل بھی ہیں؟ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنا امتی تسلیم بھی فرمائیں گے کہ نہیں؟
لکیونکہ ہم قرآن مجید فرقان حمید کی دو اہم ترین آیات کو حقیقت میں بلکل اہمیت ہی نہیں دیتے!
جس میں سب سے پہلے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 103 میں واضح ارشاد فرمایا کہ:
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪-وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(103)
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔
اور *دوسری مرتبہ سورۃ الانعام کی آیت 159 میں فرمایا* کہ:
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھےo
(الْأَنْعَام، 6 : 159)
کیا مسلمان ان آیات مبارکہ پر عملدرآمد کرتے ہیں جبکہ؟
اللہ تعالیٰ نے تو ہر امت اور امتِ مسلمہ کے لیے بھی جسے پسند کیا اپنے دین کا تشخص اور نام جسے اللّٰہ تعالیٰ نے خصوصاً قرآن مجید میں مسلمانوں کو بطورِ خاص “مسلمان” کا نام دیا ہے۔ سورۃ الحج (آیت ۷۸) میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:
“اُس نے تمہارا نام ‘مسلمان’ رکھا ہے (اس سے) پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی۔”
مندرجہ بالا آیات سے بلکل صاف اور واضح ارشادات قرآن مجید فرقان حمید میں درج ہیں اور قیامت بپا ہونے تک اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے۔
لیکن دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے قرآن مجید کے حکم کے مطابق خود کو صرف “مسلمان” کہلانا پسند ہی نہیں کرتے کہیں مقلد، کہیں غیر مقلد، کہیں سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ، سلفی، قادری، چشتی، خنفی، مالکی، شافعی اور نہ جانے کتنے نام مسلم امہ میں پائے جاتے ہیں صرف غیر مسلم اور کفار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے کو صرف” *مسلمان* ” کہتے ہیں۔ اور ان کے مظالم شیعہ سنی اور فرقوں کے مطابق نہیں بلکہ مسلمان کے نام پہ ڈھائے جاتے ہیں۔ جو ملک اللّٰہ تعالیٰ کے منع کرنے کے باوجود کہ یہود و نصاری کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے اور سود اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھل کھلا جنگ کرتے ہیں، وہی یہود و نصاری دھوکے، سازشوں اور خریدے ہوئے دین کے غداروں اور منافقین کے ذریعے بظاہر بنائے گئے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے ہیں۔
دوسری جانب کفار ممالک میں رائج قانون “حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ، عمر لاء” نافظ العمل ہے اور جاپانی قوم پوری دنیا میں ایمانداری میں اول نمبر پر ہے؟
دنیا کے 150 سے زائد مسلم ممالک میں کوئی ایک بھی اس منصب پہ کبھی فائز نہ ہو سکا پاکستان کی تو انصاف فراہم کرنے والی عدلیہ کا نمبر ہی دنیا بھر کے آخری تین چار نمبروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آخر جاپانی قوم میں ایسا کیا ہے وہ دنیا بھر میں اول نمبر شمار کیے جاتے ہیں۔
نہ وہاں منبروں سے خطبے گونجتے ہیں،
نہ دین کے نام پر شور مچایا جاتا ہے،
نہ نیکی کی تشہیر ہوتی ہے اور نہ بدی کو تقدس کا لباس پہنایا جاتا ہے۔
وہاں بس ایک خاموش سا اصول ہے:
جو کہا جائے، وہی کیا جائے۔
جو ذمہ داری لی جائے، اسے عبادت سمجھ کر نبھایا جائے۔
ہم نے دین کو لفظوں میں قید کر لیا،
انہوں نے اخلاق کو عمل میں زندہ رکھا۔
ہم سچ کو تقریر میں ڈھونڈتے رہے،
انہوں نے سچ کو کردار میں اتار لیا۔
ہم نے ایمان کو دعوؤں میں بانٹ دیا،
انہوں نے ایمانداری کو نظام بنا لیا۔
شاید انہیں کوئی مولوی نہیں ملا،
مگر انہیں ضمیر مل گیا۔
شاید انہیں کوئی پیر نہیں ملا،
مگر انہیں فرض شناسی کا راستہ دکھا دیا گیا۔
اور شاید یہی وہ سبق تھا
جو نہ کتابوں میں لکھا گیا،
نہ منبروں سے پڑھایا گیا—
بلکہ زندگی نے خود انہیں سکھا دیا۔
اور ہم؟
ہم آج بھی یہ سوال کرتے ہیں
کہ زوال کیوں ہے،
جبکہ جواب ہماری بے عملی میں چیخ چیخ کر موجود ہے۔
تحریر:
چئیرمن
ابابیل خیرالبشر موومنٹ