
حیدراباد۔ ایم کیو ایم پاکستان کے حق پرست اراکین سندھ اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی اور ایڈوکیٹ راشد خان نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بلدیہ اعلی حیدرآباد کا 2026.27 کا بجٹ شہری مسائل سے چشم پوشی کا بجٹ ہے جسے پیپلز پارٹی کی بی ٹیم تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اراکین کی مدد سے پاس کروایا گیا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلدیہ کے تاریخی جناح ہال کے بجائے آڈیٹوریم میں بجٹ اجلاس مئیر کے غیر جمہوری رویہ کا ثبوت ہے انہوں نے کہاکہ مکمل بلدیاتی بالادستی صوبائ و وفاقی حکومتوں کی معاونت اور وسائل کے باوجود حیدرآباد کے بنیادی مسائل فراہمی آب و نکاسی سڑکیں گلیاں نالے نالیاں کھیل کے میدان پارکس اسٹریٹ لائٹس اور قبرستانوں کی حالت بد سے بد تر ہوگئ ہے انہوں نے کہاکہ چار سال میں پندرہ ارب روپے سے زائد کا بجٹ استعمال کرنے کے بعد بھی شہری مسائل جوں کے توں ہیں سندھ کی سب بڑی اور سب سے زیادہ وسائل کی حامل حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ایک اجڑے ہوئے برباد شہر کا منظر پیش کررہی ہے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے بلدیاتی نمائندوں نے نیاز اسٹیڈیم پر قبضہ کیا اب وہاں کروڑوں روپے کے غیر معیاری غیر معیاری کام کرواکر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے افتتاح بھی کروایا تاہم پی سی بی کی ٹیم نے نیاز اسٹیڈیم کے کام کو غیر معیاری قرار دیا ڈی پارک رانی باغ اور شہر کے 16 قبرستانوں کی حالت زار ہے لیاقت کالونی میں لائبریری کے پلاٹ کو ٹاؤن چیئرمین نے مئیر کی آشیرباد سے ٹیکسی اسٹینڈ میں تبدیل کردیا مون سون بارشوں کی آمد ہے مگر نالوں کی صفائی کا کام نہیں کروایا جارہا انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کی تاجربرادری کو پریشان کیا جارہا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے چھوٹکی گھٹی الرحیم شاپنگ سینٹر کی دکانوں کو سیل کرنا تاجروں کے ساتھ زیادتی ہے شہر میں پینے کے پانی کی قلت ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام پریشان ہیں انہوں نے کہاکہ محکمہ سوشل ویلفئیر میں ایک گدیڈ کے ملازم نعیم شورو کو واسا میں ایچ آر تعینات کرکے انہیں 4 سے 6 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ادا کی جارہی ہے جس کا اینٹی کرپشن کو نوٹس لینا چائیے اور انہیں عہدہ سے ہٹاکر حاصل کردہ تنخواہ و مراعات واپس لی جائے انہوں نے اپوزیشن علاقوں میں ترقیاتی کام نہ کرانے پر مئیر بلدیہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا