انصاف تعلیم اور علاج

انصاف تعلیم اور علاج
تحریر طاہر مغل
معاشرتی ناانصافی کی کہانی کہتے ہیں کہ انسان کی تین بنیادی ضروریات ہیں – روٹی، کپڑا اور مکان۔ مگر جب میں اپنے گرد معاشرے کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ شاید یہ فہرست ادھوری ہے۔ کیونکہ ایک انسان کو زندہ رہنے کے لیے صرف روٹی کپڑا اور مکان ہی نہیں چاہیے، بلکہ اسے ایک عزت دار زندگی گزارنے کے لیے تعلیم، علاج اور انصاف بھی درکار ہیں۔
لیکن افسوس آج ہمارے معاشرے میں یہ تینوں چیزیں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ عام آدمی انہیں صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے تعلیم ایک خواب جو شاید کبھی پورا نہ ہو میں ایک غریب باپ کو دیکھتا ہوں۔ وہ دن رات ایک محنت مزدور کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ اس کی انگلیوں پر زخموں کے نشان ہیں، اس کی کمر جھک گئی ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ایک خواب ہے – وہ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے۔ وہ اپنی جیب سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ قرض لیتا ہے، دوستوں سے ادھار مانگتا ہے، اور کسی طرح اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں اور کالجوں میں داخل کرواتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہے کہ تعلیم ہی واحد راستہ ہے جو اس کے بچوں کو اس غربت کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔ مگر کیا سرکاری اسکولوں کی حالت اس قابل ہے؟ وہاں نہ تو معیاری اساتذہ ہیں، نہ پڑھنے کے آوزار نہ صاف ستھرا ماحول۔ اور پرائیویٹ اسکولوں کی فیس تو عام آدمی کی پہنچ سے بالکل باہر ہے۔ یوں تعلیم ایک ایسا خواب بن جاتی ہے جسے صرف وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جن کی جیبیں بھری ہوں۔ باقیوں کے لیے تو بس ایک دھندلا سا خواب رہ جاتا ہے۔
اور پھر آتا ہے علاج معالجہ۔ جب کسی غریب گھر میں کوئی بیمار پڑتا ہے تو وہاں ایک نئی آفت آ جاتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہاں دوائیوں کی کمی ہے، ڈاکٹروں کی کمی ہے، مریضوں کی بھیڑ ہے۔ ایک مریض کو دیکھنے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنا پڑتا ہے، اور پھر بھی شاید کوئی ڈاکٹر اسے دیکھنے کو تیار نہ ہو۔ سرکاری ہسپتالوں میں موجود دوائیں بھی اکثر غیر معیاری ہوتی ہیں، اور وہ بھی بہت جلد ختم ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ مجبوراً لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں علاج تو ملتا ہے، مگر اس کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک غریب خاندان کی ساری جمع پونجی ایک ہی بیماری میں ختم ہو جاتی ہے۔ لاکھوں روپے قرض، گھر کا سامان بیچنا، زیورات گروی رکھنا – یہ سب اس ایک دن کے لیے کہ کوئی عزیز صحت یاب ہو جائے۔
لیکن کیا ہمیشہ ایسا ہوتا ہے؟ کئی بار تو علاج کے باوجود بیمار بچ نہیں پاتا، اور پھر وہ خاندان نہ صرف ایک عزیز کو کھو دیتا ہے بلکہ معاشی طور پر بھی برباد ہو جاتا ہے اور سب سے افسوسناک منظر ہے انصاف کا۔ جب کوئی غریب شخص انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکتا ہے۔
وہ وکیلوں کے فیسوں کے لیے قرض لیتا ہے، اپنی چھوٹی سی زمین یا مکان بیچ دیتا ہے، مگر جب وہ عدالت میں پہنچتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ انصاف کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔ سالہا سال کیس چلتے ہیں۔ ایک تاریخیں دوسری تاریخوں میں بدلتی ہیں، وکیل اپنی فیسوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، اور غریب فریق عدالت کے چکر لگاتے لگاتے تھک جاتا ہے۔ کئی بار تو وہ شخص اس دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کا کیس وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ یہ منظر کسی ڈرامے سے کم نہیں۔ ایک طرف وہ لوگ جن کے پاس پیسہ اور طاقت ہے، وہ ایک دن میں اپنا کیس نمٹوا لیتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب عوام جو سالہا سال عدالتوں کی سیڑھیاں ناپتے رہتے ہیں، مگر انصاف کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی انہیں نصیب نہیں ہوتا۔ آئین پاکستان واضح طور پر کہتا ہے کہ تعلیم، علاج اور انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر شہری کو یہ بنیادی سہولیات مہیا کرے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آج یہ تینوں چیزیں صرف ہائی فائی لوگوں کے لیے ہیں۔ وہ لوگ جن کے پاس پیسہ ہے، جن کا کوئی وزیر یا ایم این اے رشتہ دار ہے جو کسی بڑے وکیل کو فیس دے سکتے ہیں۔ ان کے لیے تو ہر دروازہ کھلا ہے۔
مگر وہ غریب عوام جن کے ووٹوں کی بدولت یہ وزیر اور ایم این اے منتخب ہوتے ہیں – ان کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہی عوام جنہوں نے اپنی محنت، اپنے پسینے، اپنی قربانیوں سے اس نظام کو ممکن بنایا، آج انہی ہی نظام کے ہاتھوں بھولے جا رہے ہیں۔
یہ عوام سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں۔ یہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں مگر ان کی آواز حکمرانوں کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ جمہوریت ہے؟ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں؟ہمیں سمجھنا ہوگا کہ تعلیم، علاج اور انصاف کوئی تحفہ نہیں بلکہ بنیادی حق ہیں۔ ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ان چیزوں کا حق دار ہے۔ریاست کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانا ہوگا ہسپتالوں میں دوائیں اور ڈاکٹر فراہم کرنے ہوں گے، اور عدالتی نظام کو اتنا تیز اور سستا بنانا ہوگا کہ غریب سے غریب شخص بھی انصاف حاصل کر سکے۔ ورنہ یہ فرق مزید بڑھے گا امیر اور غریب کے درمیان خلیج مزید چوڑی ہوگی۔ اور ایک دن یہ غریب عوام اپنی آواز اتنی بلند کرے گا کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ ہوگا۔ کیونکہ انسان کو روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ عزت انصاف اور صحت بھی چاہیے۔ اور یہ اس کا بنیادی حق ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *