حیسکو کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی ناکافی فراہمی، صنعت و تجارت شدید متاثر، وفاقی وزیر توانائی فوری نوٹس لیں: محمد سلیم میمن، صدر حیدرآباد چیمبر
حیدرآباد( ) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے کہا ہے کہ نیشنل گرڈ سے حیسکو ریجن کو فراہم کی جانے والی بجلی میں نمایاں کمی، این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن نظام میں بار بار پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیاں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فورسڈ لوڈشیڈنگ نے پورے حیدرآباد ڈویژن کی صنعتی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حیسکو ریجن کو قومی گرڈ سے بجلی کی مناسب فراہمی اور ٹرانسمیشن نظام کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔ سلیم میمن نے کہا کہ چیمبر کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حیسکو کو ماضی میں قومی گرڈ سے تقریباً 900 میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ فراہمی کم ہو کر تقریباً 550 سے 600 میگاواٹ رہ گئی ہے، جس کے باعث حیسکو کو مختلف فیڈرز پر فورسڈ لوڈشیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن سسٹم میں بار بار فنی خرابیاں اور بریک ڈاؤن بھی بجلی کی فراہمی کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں، جس سے کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد، کوٹری، جامشورو، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور حیسکو کے دیگر علاقوں میں صنعتیں، مارکیٹیں، تجارتی مراکز اور چھوٹے کاروبار غیر اعلانیہ بندشوں اور غیر یقینی بجلی کی فراہمی کے باعث بھاری مالی نقصانات برداشت کر رہے ہیں۔ پیداواری عمل بار بار رک جاتا ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، مشینری غیر فعال ہو جاتی ہے اور کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔صدر چیمبر نے کہا کہ مون سون کے موجودہ موسم کے پیش نظر اگر ٹرانسمیشن نظام کی بروقت دیکھ بھال، کمزور تنصیبات کی مرمت اور ہنگامی انتظامات نہ کیے گئے تو بجلی کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف صنعت و تجارت بلکہ عام صارفین کو بھی بھگتنا پڑیں گے۔سلیم میمن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حیسکو ریجن کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی فوری طور پر سابقہ سطح کے مطابق بحال کی جائے، این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن نظام میں موجود تکنیکی مسائل اور رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے، صنعتی و تجارتی فیڈرز کو حتی الامکان فورسڈ لوڈشیڈنگ سے محفوظ رکھا جائے، اور وزارتِ توانائی، این ٹی ڈی سی، سی پی پی اے-جی اور حیسکو کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کر کے بجلی کی فراہمی کو مستحکم اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی صرف صنعت و تجارت ہی نہیں بلکہ قومی معیشت، سرمایہ کاری، روزگار اور حکومتی محصولات کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبرپُر امید ہے کہ وفاقی حکومت اس مسئلے کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے فوری اقدامات کرے گی تاکہ حیدرآباد ڈویژن کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچ سکیں۔
Posted inکراچی