
Writing
عقلِ سلیم
حکم نامہ یا عملی اقدام؟
تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی
قانون کی اصل طاقت صرف اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس پر ہونے والے عمل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر کسی حکم نامے پر عملدرآمد نہ ہو تو وہ اپنی افادیت کھو دیتا ہے اور عوام کے ذہنوں میں قانون کی حیثیت محض ایک رسمی اعلان بن کر رہ جاتی ہے۔
جون 2026 میں آر پی او فیصل آباد کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ رات گئے چوکوں، گلی محلوں اور سڑکوں پر چارپائیوں (منجوں) پر بیٹھ کر محفلیں سجانے، ٹولیاں بنانے اور غیر ضروری اجتماعات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد امن و امان کو بہتر بنانا، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کو پرسکون ماحول فراہم کرنا تھا۔ یہ ایک قابلِ تحسین سوچ تھی جسے شہریوں نے بھی سراہا۔
تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ فیصل آباد کے بعض علاقوں، خصوصاً کمشنر آفس کے عقب میں واقع نیو سول لائن، اسلام نگر اور دیگر مقامات پر آج بھی رات گئے، بلکہ بعض اوقات دو سے تین بجے تک چائے کے کھوکے، پان شاپس، پیزا، برگر، شوارما، فروٹ فروش اور دیگر سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ سڑکوں اور چوکوں میں لوگوں کی ٹولیاں بدستور موجود ہوتی ہیں، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر پابندی موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نظر نہیں آتا؟
جب قانون صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے تو عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طرف شہریوں کو رات کے وقت غیر ضروری نقل و حرکت سے منع کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف انہی علاقوں میں کھلے عام اجتماعات جاری رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال نہ صرف قانون کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے بلکہ پولیس کے اعلانات پر عوامی اعتماد بھی کمزور کرتی ہے۔
یہ کالم کسی ادارے یا فرد پر تنقید کے لیے نہیں بلکہ ایک مثبت نشاندہی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہماری گزارش صرف یہ ہے کہ اگر یہ حکم عوامی مفاد کے لیے جاری کیا گیا تھا تو اس پر بلاامتیاز اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اور اگر کسی وجہ سے اس پر عمل ممکن نہیں تو پھر ایسے اعلانات کو ازسرِنو واضح کیا جائے تاکہ شہری غیر یقینی صورتحال کا شکار نہ ہوں۔
ہم آر پی او فیصل آباد جناب سہیل اختر سکھیرا سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں، متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کریں اور اس پالیسی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ قانون کی عزت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس کا اطلاق ہر شہری اور ہر علاقے پر یکساں ہو۔
شہریوں کی خواہش صرف یہ ہے کہ فیصل پاکستان ایک پرامن، منظم اور قانون کی بالادستی والا ملک بنے، جہاں سرکاری اعلانات صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی حقیقت بھی ہوں۔