
عقلِ سلیم
انصاف صرف فیصلے کا نام نہی اعتماد کا نام بھی ہے
تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی
کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد صرف بلند عمارتیں، ترقی یافتہ سڑکیں یا جدید ٹیکنالوجی نہیں ہوتیں، بلکہ اس کی اصل طاقت ایک ایسا نظامِ انصاف ہوتا ہے جس پر ہر شہری یکساں اعتماد کر سکے۔ جب عام آدمی یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی آواز کمزور ہے، اس کے وسائل محدود ہیں اور اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں، تو معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور بداعتمادی جنم لینے لگتی ہے۔
اکثر یہ تاثر سننے کو ملتا ہے کہ طاقتور اپنے وسائل، اثر و رسوخ اور تعلقات کی بدولت مشکلات سے نکل جاتے ہیں، جبکہ کمزور آدمی اپنے حق کے لیے طویل جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ خواہ یہ تاثر درست ہو یا غلط، خود اس احساس کا پیدا ہونا بھی ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔
قانون کا مقصد انتقام نہیں بلکہ حق دار کو حق دلانا اور بے گناہ کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر کوئی بے قصور سزا پائے تو صرف ایک فرد متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کا انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مجرم سزا سے بچ نکلے تو یہ بھی انصاف کے وقار پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف کی ذمہ داری صرف عدالتوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں۔ جھوٹی گواہی دینے والا، جھوٹا الزام لگانے والا، رشوت دینے یا لینے والا، اور ذاتی مفاد کے لیے سچ کو چھپانے والا بھی انصاف کے نظام کو کمزور کرنے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔
عدل صرف قانون کی کتابوں میں نہیں، بلکہ ہمارے کردار، ہمارے ضمیر اور ہماری روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے۔ جب معاشرے کا ہر فرد سچ بولنے، دیانت داری اختیار کرنے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے لگے گا تو انصاف کا نظام بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔
آئیے ہم سب یہ عہد کریں کہ اختلاف ضرور کریں گے مگر انصاف کے ساتھ، تنقید ضرور کریں گے مگر ذمہ داری کے ساتھ، اور اصلاح کا سفر دوسروں سے پہلے اپنی ذات سے شروع کریں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، باوقار اور انصاف پسند معاشرے کی طرف لے جاتا ہے۔
پیغام:
“انصاف صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ذمہ داری ہے جو سچ، دیانت اور انصاف کو اپنی زندگی کا اصول بناتا ہے۔”
— سید سلیم شہزاد جیلانی