ہم نے وہ قرض بھی اتارے جو ہم پہ واجب نہ تھے

تحریر طاہراشرف
ہم نے وہ قرض بھی اتارے جو ہم پہ واجب نہ تھے

پاکستان کی گلیوں محلوں اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں ایک داستان لکھی جا رہی ہے مگر یہ داستان کسی کتاب کا حصہ نہیں، یہ زندہ لوگوں کی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں ہر گھر کا چولہا ٹھنڈا ہے ہر کمرے میں اندھیرا ہے، اور ہر آنکھ میں ایک بجھتی ہوئی شمع ہے۔ہم نے وہ قرض اُتارے جو ہم پر واجب نہ تھے۔ یہ جملہ سننے میں جتنا سادہ ہے، اس کے معنی اتنے ہی گہرے اور تکلیف دہ ہیں۔کچھ لوگوں نے اپنی جیبوں سے، اپنی خوشیوں سے اپنی نیندوں سے وہ تاوان دیا جو انہوں نے خود نہیں کمایا تھا۔ پھر بھی، وہ خاموش رہے کیونکہ انہیں سکھایا گیا تھا کہ قربانی عظمت کی علامت ہے۔ مگر کیا یہ قربانی تھی یا کوئی اور کھیل، جس میں ایک طبقہ سارا مال لُوٹ کر دوسرے طبقے کو بھوکا چھوڑ دیتا ہے؟اشرفیہ کو پالتے پالتے، اس قوم کے پاوں تلے سے مٹی نکل گئی۔ جب ایک طرف مہنگائی کی آگ بھڑک رہی تھی، تو دوسری طرف کچھ لوگ اس آگ پر ہاتھ سینک رہے تھے۔ عام آدمی کی تنخواہ جو مہینے کے پہلے دن ہی ختم ہو جاتی ہے، اب دو وقت کی روٹی کے لیے بھی کافی نہیں رہی۔
بجلی اور گیس کے میٹر جو کبھی کسی گھر کی بنیادی ضرورت سمجھے جاتے تھے آج اُن گھروں کی دیواروں سے اُتار دیے گئے ہیں جہاں بچے روتے ہیں، بوڑھے کانپتے ہیں اور عورتیں آنسو چھپاتی ہیں۔ لوگ اندھیرے میں بیٹھنا سیکھ گئے، کیونکہ روشنی اب ایک لگژری بن چکی ہے۔ گیس کی جگہ لکڑیاں اور مٹی کے چولہے نے لے لی، اور وہ بھی اکثر دھواں بن کر آنکھوں میں اُتر جاتے ہیں۔ اور پھر وہ منظر جسے دیکھ کر رُوح کانپ اُٹھتی ہےوہ باپ جس نے اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھا جا سکا وہ ماں جس کے پاس بچے کے دودھ کا بندوبست نہ رہا وہ نوجوان جس نے خواب دیکھے مگر حقیقت نے نیند ہی چھین لی وہ سب خودکشی کی وادی میں جا اُترے۔ کچھ نے رسی تھامی، کچھ نے زہر پی لیا کچھ نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ چہرے ہیں، یہ کہانیاں ہیں یہ وہ آوازیں ہیں جو اب کبھی سنائی نہیں دیں گی۔ مہنگائی نے گھر گھر کو قبرستان میں بدل دیا ہے۔ وہ خوشی جو کبھی چائے کی ایک پیالی میں ملتی تھی آج مشکل سے روٹی کے ایک ٹکڑے میں بھی نہیں ملتی۔ بچوں کے کھلونے پرانی بوتلوں میں بدل گئے، اور عورتوں کے زیور بازاروں میں فروخت ہو گئے۔کچھ نے گھر تک بیچ دیے مگر پھر بھی مہینہ نہیں کٹا۔یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہے کیا واقعی ہم نے زندگی گزارنے کا حق کھو دیا ہے؟ کیا ہماری محنت اور پسینے کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا وہ طاقتور جو فیصلے کرتے ہیں، کبھی ان گلیوں میں آئے جہاں بچے بھوکے سوتے ہیں؟ یہ تحریر کسی الزام کی نہیں، یہ ایک چیخ ہے اُس انسان کی چیخ جو اب صبر کی انتہا پر کھڑا ہے۔ جو نہیں چاہتا کہ اس کا بچہ اسے بھوکا دیکھے جو نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی چولہے کے لیے لکڑی مانگنے جائے، جو نہیں چاہتا کہ اس کا بوڑھا باپ کہے کہ “بیٹا، مجھے بھوک نہیں” جب کہ حقیقت میں وہ بھوکا ہو۔ پاکستان کے ہر گھر میں ایک کہانی ہے ہر کہانی میں ایک درد ہے اور ہر درد میں ایک سوال ہے: کب تک؟ کب تک ہم اپنے آنسوؤں کو گنتے رہیں گے؟ کب تک یہ مہنگائی یہ بے روزگاری، یہ بے حسی ہماری زندگیوں کا حصہ رہے گی؟ امید اب اندھیرے میں ٹمٹماتی ایک جھوٹی روشنی نہیں رہی۔ لوگ اپنے خواب بھی بیچ چکے ہیں، اب صرف ایک التجا باقی ہے — کہ کوئی سنے، کوئی سمجھے، کوئی اس قوم کو اس کی اپنی زمین پر، اس کی اپنی چھت کے نیچے، جینے کا حق دے۔کیونکہ انسان جب سب کچھ کھو دیتا ہے، تو پھر صرف ایک چیز بچتی ہے — اُس کی آواز۔ اور آج، یہ آواز گونج رہی ہے۔ کاش، کوئی سننے والا ہو۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *