حیدراباد ۔ سندھ کابینہ کی جانب سے تا حال گندم فروخت کے سرکاری ریٹ جاری نہ کرنے کا ذخیرہ اندوزوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدراباد کراچی سمیت سندھ بھر کی اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں من مانا اضافہ کر دیا گزشتہ روز 12500 میں فروخت ہونے والی 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ قیمت قیمت 12800 روپے تک پہنچ گئی مزید اضافے کا خدشہ عوام شدید ذہینی اذیت سے دوچار محکمہ خوراک سندھ اور سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ اوپن مارکیٹ میں گندم کے بڑھتے ہوئے نرخوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام شہری مہنگی گندم کا مہنگا اٹا خریدنے پر مجبور ذخیرہ اندوز بے قابو ہو گئے اوپن مارکیٹ میں گبدم کے نرخوں میں مسلسل اضافہ سے فی کلو اٹے کی قیمت 160 روپے تک پہنچ گئی جس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ کے گزشتہ مہینوں میں ہونے والے اجلاسوں میں گندم جاری کرنے کی حتمی تاریخ 20 اکتوبر کا تو اعلان کردیا گیا مگر گندم فروخت کی سرکاری قیمت کا تا حال تعین نہ کیے جانے کا ذخیرہ اندوزوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی حیدراباد اور اندرون سندھ کی اوپن مارکیٹوں میں گندم کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے دوسری جانب ذرائع کے مطابق امپورٹ گندم کی باتیں تو کی جا رہی ہیں لیکن اس جانب گندم حتمی طور پر انے کی تاریخ کا بھی تعین نہیں کیا جا سکا ہے جس کی وجہ سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے حوصلے گزرتے دن کے ساتھ بلند سے بلند تر ہوتے جا رہے ہیں ذخیرہ اندوزوں نے بڑی مہاعت کے ساتھ ڈیمانڈ اینڈ سپلائ اپنے کنٹرول میں کررکھی ہے محکمہ خوراک سندھ کے افسران اور سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ خواب غفلت کا شکار ہے کوئ کاروائ ہوتی دکھائ نہیں دے رہی جبکہ عوام مہنگا اٹا خریدنے پر مجبور ہیں ذرائع کے مطابق حیدراباد کے سرکاری فوڈ گرین گوداموں میں جہاں پانچ سے ساڑھے پانچ لاکھ گندم بوریاں اسٹاک کرنے کی گنجائش موجود ہیں اب تک چند ہزار گندم کی بوریاں ہی اسٹاک کی جا سکی ہیں جس کی وجہ سے حیدراباد کے رولر فلور ملز اور اٹا چکی مالکان میں تشویش پائی جاتی ہے محکمہ خوراک سندھ نے گندم کے اجرا سے پہلے سرکاری گوداموں میں گندم اسٹاک کی پوزیشن کو بہتر نہ بنایا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اب تک حکومتی اور محکمہ خوراک سندھ کی سطح پر زبانی دعوے ہی سامنے ارہے ہیں جبکہ عملی طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے اس ضمن میں عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ اور ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور ذخیرہ اندوز و ناجائز منافع خوروں کی جانب سے اوپن مارکیٹ میں گندم کے بڑھتے ہوئے نرخوں کو کنٹرول کرنے پر اپنا کردار ادا کرے تاکہ سندھ کے عوام جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں شدید مشکلات سے دوچار ہیں اٹا جیسی بنیادی اشیاء کے حصول میں بھی انہیں مزید پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے عوامی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کر کے چھپائی گئی گندم کوفی الفور اوپن مارکیٹ میں فروخت کے لئیے لایا جائے تاکہ عوام میں پائے جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے
Posted inکراچی