قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے سلور وائنڈنگ میں بنے ٹرانفارمرز کو ہٹا کر خالص کوپر وائنڈنگ ٹرانسفارمرز کی تنصیب عمل میں لائی جائیں تاکہ عام شہری اور ملازمین کو ٹرانسفارمر کے جلنے سے بچایا جاسکے، جامشورو کی حدود میں قائم دفاتر کے ملازمین کو کرایہ مکان کی سہولیات فراہم کرائی جائینگی، حادثات میں جلنے والے ملازمین کیلئے واپڈا اسپتال میں برن وارڈ کا دیرینہ مطالبہ منظور کیاجائے ، سابقہ 93 کنٹریکٹ اور دیگر ملازمین کو ریگولر کیاجائے ، ملازمین کو طبی سہولیات کی بہتر فراہمی کیلئے پینل اسپتال کی منظوری ، پہلے سے موجود واپڈا اسپتال اور تین عدد ڈسپنسری کا طبی معیار اور اپ گریڈ کیاجائے، دوران حادثات معذور ہونے والے ملازمین کو معیاری مصنوعی آلات کی فراہمی ریٹائرڈ ملازمین اور بیوائوں کی پینشن ، جی پی فنڈز ، فائنل سیٹلمنٹ کی ادائیگیاں، ملازمین کی ترقیوں ، اپ گریڈیشن ، ڈپلومہ ہولڈر کوٹہ 10% فیصد سے 20%فیصد بڑھایا جائے، سیفٹی میٹنگ اور سیمینار کا باقاعدگی سے انعقاد ، سول ورکس گرڈ کالونیز کے مسائل اور ان جیسے دیگر اہم مسائل پر آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے صوبائی سیکریٹری سندھ اقبال احمد خان نے چیف ایگزیکٹو آفیسر حیسکو فیض اللہ ڈاہری سے کانفرنس ہال میں ایجنڈا میٹنگ کی جس میں یونین کے نمائندگان کے علاوہ حیسکو کے اعلیٰ افسران ڈی جی ایچ آر شفیق احمد میمن، منیجر ایڈمن سیف الدین میمن، ڈائریکٹر سیفٹی ، ایم ایس واپڈا اسپتال ڈاکٹر سعیدہ ، ڈپٹی منیجر علی خان جمالی، ڈپٹی ڈائریکٹر سیفٹی مختیار شاہ، ایکسین سول ظفر سومرو، ڈپٹی ڈائریکٹر PRO صادق قمبر، کوآرڈنیٹر ولی داد چانڈیو، ڈپٹی منیجر فنانس افتخار سومرو خاص طور پر موجود تھے جبکہ یونین کی جانب سے جن نمائندگان نے شرکت کی ان میں صوبائی میڈیا کو آرڈنیٹر محمد حنیف خان، الادین قائمخانی، نور احمد نظامانی، بابو شفیق ، زونل چیئرمین غلام نبی کھوسو، ساجد اللہ راجپوت، اصغر علی ملاح، شاہد قائمخانی، راجہ آفریدی، علی احمد خانزادہ ، قمر الدین شمس، مہر اللہ خان، بھی موجو دتھے۔ قبل ازیں حیسکو کے 10شہید و مرحوم ملازمین کی بیوائوںکو پی ایم پیکیج کے تحت فی کس 9 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک کے چیک CEO حیسکو فیض اللہ ڈاہری اور صدر یونین عبداللطیف نظامانی نے اپنے ہاتھوں سے تقسیم کئے اور بیوائوں سے تصدیق کی کہ اس حوالے سے کسی ملازم اور افسران نے آپ سے رشوت تو طلب نہیں کی۔ کیونکہ یہ سارا عمل یونین اپنی نگرانی میں شفافیت سے مکمل کروارہی ہے ۔ اور اگر کوئی کسی گھنائونے کام میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف واپڈا قوانین کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
Posted inکراچی