حیدرأباد میں رابیز ویکسین نایاب، بلدیہ کی غفلت سے آوارہ کتوں کا راج۔ انتظامیہ خاموش شہریوں کا شدید احتجاج

حیدرأباد میں رابیز ویکسین نایاب، بلدیہ کی غفلت سے آوارہ کتوں کا راج۔ انتظامیہ خاموش شہریوں کا شدید احتجاج
حیدرآباد شہر حیدرآباد اور اس کے گردونواح میں آوارہ اور پاگل کتوں کی بھرمار اور سگ گزیدگی (کتے کے کاٹنے) کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ بلدیہ حیدرآباد سمیت متعلقہ انتظامی ادارے مکمل طور پر بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ شہر میں فوری طور پر “کتا مار مہم” شروع نہ کرنے کے باعث گلی محلے اور مرکزی شاہراہیں خطرناک زون بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں میں شدید خوف و ہراس اور ناامیدی کی لہر پھیل گئی ہے۔
عوام کی مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہوتا دکھائ دیتا ہے جب سگ گزیدگی کا شکار شہری ہنگامی علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو وہاں اینٹی رابیز ویکسین (ARV) عدم دستیاب ملتی ہے۔ غریب اور لاچار شہری ویکسین کی عدم دستیابی اور نجی ادویات کے تاجروں کے ہاتھوں بلیک میں مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں
عوامی سماجی تنظیموں اور متاثرہ شہریوں نے حکام کی مجرمانہ خاموشی اور عدم توجہی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی نااہلی کی قیمت معصوم شہری اپنی جانیں دے کر ادا کر رہے ہیں۔ سکول جانے والے چھوٹے بچے اور مساجد جانے والے بزرگ کتوں کے حملوں کے خوف سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ عوامی حلقوں نے
حیدرآباد کی تمام یونین کونسلوں میں ایمرجنسی کی بنیاد پر آوارہ کتوں کا خاتمہ کرنے
سول ہسپتال حیدرآباد سمیت تمام بنیادی صحت مراکز میں رابیز ویکسین کی بلاتعطل اور مفت فراہمی یقینی بنانے
اور غفلت برتنے والے ذمہ داران افسران کے خلاف سخت سے سخت قانونی و انتظامی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ عوامی حلقوں کا کہنا تھاکہ
اگر بلدیاتی حکام اور انتظامیہ نے فوراً مؤثر اقدامات نہ کیے تو شہری شدید احتجاج اور عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *