
حیدرآباد کمشنر حیدرآباد ڈویژن فیاض حسین عباسی کی زیر صدارت 13 اپریل سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ڈویژنل ٹاسک فورس (پولیو) کا اجلاس آج شہباز بلڈنگ حیدرآباد میں منعقد ہوا، پولیو مہم 13 اپریل سے 19 اپریل 2026 تک جاری رہے گی، اجلاس میں ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو، ای او سی (ایمرجنسی آپریشن سینٹر) سندھ کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن کے علاوہ ڈویزن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں حیدرآباد، دادو، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، مٹیاری، جامشورو، ٹنڈو الہٰیار اور ٹنڈو محمد خان کے ضلعی افسران نے پولیو مہم کے حوالے سے اپنی تیاریوں اور منصوبہ بندی پر بریفنگ دی،اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال ملک میں پولیو کا پہلا کیس حیدرآباد ڈویژن کے ضلع سجاول سے رپورٹ ہوا جس کے باعث اس بار مہم کو غیر معمولی سنجیدگی اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ چلانا ناگزیر ہے،اس موقع پر کمشنر حیدرآباد ڈویژن فیاض حسین عباسی نے ہدایت دی کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں صبح کی اسمبلیوں میں فیلڈ عملے کو سجاول میں سامنے آنے والے پولیو کیس کے حوالے سے بھرپور انداز میں آگاہ کریں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ قومی سطح پر بھرپور کوششوں کے باوجود اگر کسی سطح پر معمولی غفلت ہو تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ یونین کونسلز کی ازسرِ نو ترتیب کی جائے تاکہ کوئی بھی علاقہ یا آبادی مہم میں رہ نہ جائے، انہوں نے زور دیا کہ تمام رہائشی علاقوں کی مکمل کوریج یقینی بنائی جائے اور اب اصل توجہ بچوں کو پولیو کے قطرے درست طریقے سے پلانے پر ہونی چاہیے، کمشنر نے کہا کہ متعلقہ افسران زمینی حقائق سے بخوبی واقف ہیں اس لیے وہ مقامی صورتحال کے مطابق مؤثر فیصلے کریں اور مطلوبہ اہداف حاصل کریں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار اعلیٰ معیار کی پولیو مہم چلائی جائے گی، ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد ڈویژن سے رواں سال پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے اس لیے اس بار ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہم میں بعض معمولی خامیاں رہ گئی تھیں جنہیں اس بار ہر صورت ختم کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمیں نہایت سنجیدگی، باقاعدگی اور سو فیصد توجہ کے ساتھ کام کرنا ہوگا کیونکہ پولیو مہم کسی ایک محکمے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، ای او سی سندھ کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے کہا کہ پولیو ورکرز اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچوں کو پولیو کے دو قطرے صحیح انداز سے پلائے جائیں اور وہ بچے کی زبان کو لازماً چھوئیں، انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پولیو ورکرز کے معاوضے میں اضافہ کیا جا رہا ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی نمونوں (انوائرمنٹل سیمپلز) میں پولیو وائرس کے منفی نتائج برقرار رکھنا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ایک علاقے پر زیادہ توجہ دی جائے تو دیگر علائقے نظر انداز ہو جاتے ہیں جس سے مہم کے مجموعی نتائج متاثر ہوتے ہیں، اس لیے تمام علاقوں میں یکساں نگرانی اور توجہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی افسران کی اصل ذمہ داری نگرانی، جانچ اور بچوں کے چھوٹ جانے کی روک تھام ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کولڈ چین (ویکسین کو مطلوبہ درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے کا نظام) میں خرابی بھی سجاول کیس کی ایک وجہ بنی، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے اجلاس کو بتایا کہ تلسی داس پمپنگ اسٹیشن کے اطراف واقع یونین کونسلز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، پولیو ٹیموں کی بہتر تربیت کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز خود پولیو ورکرز کی تربیتی نشستوں میں شرکت کریں گے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیدرآباد پیر غلام حسین نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ مہم کی کارکردگی کی بنیاد پر غیر سنجیدہ فیلڈ عملے کو شوکاز/وضاحتی نوٹس جاری کیے گئے جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے عملے کو تعریفی اسناد بھی دی گئیں،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی سجاول علینہ راجپر نے کہا کہ ضلع سجاول میں داخل ہونے والے مسافروں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے بچوں کی سفری معلومات ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا ان بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں یا نہیں۔
