
عورت مارچ کے نتائج آنا شروع
آج سوشل میڈیا پر ایک خبر دیکھی تو چند سال پہلے شروع ہونے والی منظم تحریک میرا جسم میری مرضی کے بھیانک نتائج کے منظر عام پر آنے اور معاشرے پر اس کے اثر انداز ہونے والے مضر اثرات کا اندازہ ہوا۔ اس کی مخالفت تو اس کے آغاز سے ہی شروع کر دی تھی اور کافی حد تک اس کی مزمت اور مختلف تنظیموں کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹیں سے بھی کافی حد تک مطمئن تھا لیکن آج کی بھیانک تصویر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شائید اس مارچ آغاز سے بھی بہت پہلے کو بیج ہمارے معاشرے میں بویا گیا تھا وہ اب باقاعدہ درخت بن چکا ہے جس کی شاخیں واضح دکھائی دینے لگ گئی ہیں۔ اور اس کی جڑیں بھی مضبوط ہو چکی ہیں۔
خبر نکلی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ سے کہ اسلام آباد میں س اچانک خلع کی درخواستوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 300 خلع کے دعوے دائر کیے جا رہے ہیں اس وقت بھی تقریباً 45000 خلع کے کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ موجودہ قانون میں بھی عورت کے بیان کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور محض تین نوٹس (چاہے شوہر کو وصول ہوں یا نہ ہوں) متعلقہ شوہر کو بھیجنے کے قانونی تقاضے کو پورا کرنے اور عورت کے ایک بیان کی کاروائی مکمل کرا کر وکلا خلع کی ڈگری باآسانی عدالت سے جاری کروا لیتے ہیں اور دیگر قانونی کاروائیاں مکمل کر کے بہت مختصر وقت میں دونوں فریقین میں مستقل جدائی کرا دیتے ہیں۔
وکلاء تو یہ عمل اپنی آمدنی کے آسان ذریعہ بنانے کی خاطر کر رہے ہیں لیکن درحقیقت جس رفتار سے خلع کے کیسز دائر ہو رہے ہیں آنے والے دنوں میں ہمارا معاشرتی نظام تباہی کے دہانے تک پہنچ جائے گا۔
بظاہر اس کی بنیادی وجہ بیروزگاری اور منشیات کا استعمال بتایا جا رہا ہے لیکن تصویر کے دوسرے رخ پہ غور کریں تو بہت سے دیگر حقائق سامنے آ جاتے ہیں۔
سب سے پہلے بات کہ اس سے پہلے ایسا کیوں نہیں تھا اس قدر منشیات کا استعمال اور بے روزگاری کیوں پیدا ہو رہی ہے، منشیات کے حوالے سے ان دنوں منشیات کی بڑی ڈیکر پنکی اور چند دیگر منشیات فروشوں کی گرفتاری کی خبریں بھی گردش میں ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح بہت جلد یہ تمام لوگ بھی عدالت سے ضمانت لے کر یا ملک سے فرار ہو جائیں گے یا کہیں اور غائب ہو کر اپنے دھندے کو کسی اور انداز سے شروع کر دیں گے۔
پکڑی جانے والی منشیات کلو میں یا منوں وزن ہو جس مجرم کی جتنی بڑی پہنچ کو گی اتنا ہی آسانی سے وہ سلاخوں سے باہر نکل آتا ہے۔
اصل زمہ داری حکام کی بنتی ہے کہ وہ منشیات کی نوجوان نسل تک رسائی کے راستوں کا خاتمہ کریں یا اس میں رکاوٹیں پیدا کریں لیکن تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ جن تھانوی کی ذمے منشیات کی روک تھام کرنا ہے ان کے زیر سایہ اور سرپرستی کی بنا پر یہ کاروبار دن بدن ہمارے معاشرے میں پھل پھول رہا ہے کئیں اڈے تو تھانوی کے نزدیک قائم ہیں اور وہاں منشیات کی فروخت کھلے عام جاری ہے، اکثر علاقوں میں عوام الناس احتجاج کرتی اور دہائیاں دیتی نظر آتی ہے کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جائے یہ اڈے ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کر رہے ہیں لیکن کسی کی آواز کسی بھی متعلقہ ادارے کو سنائی ہی نہیں دیتی۔
پہلے ہی ہمارے معاشرے میں لاکھوں بچیاں شادی کے انتظارِ میں عمر رسیدہ ہو رہی ہیں ایسے میں اگر شادی شدہ لڑکیاں بھی خلع یا طلاق لے کر گھروں میں واپس لوٹنا شروع ہو جائیں گی تو سوچیں ہمارے معاشرے کا کیا حال ہو گا؟
دولت والوں کو تو منشیات کے استعمال سے اتنا فرق نہیں پڑتا، لیکن غریب کے بچے اس لت میں پڑھ کر غریب والدین کے جینے کا سہارا بھی ختم کر دیتے ہیں۔
اور ہمارا معاشرتی نظام طلاق یافتہ یا خلع یافتہ لڑکی کے کردار کو ہمیشہ مزید داغدار ہی کرتا ہے اور ایک مرتبہ گھر اجڑ جائے تو دوبارہ آباد ہونا پہلے سے بھی زیادہ مشکل ترین عمل ہوتا ہے۔
