حیدرآباد پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ شبیر حسن انصاری نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر زور دیاکہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے قبل حیدرآباد کی سابقہ پرانی حلقہ بندیاں بحال کرے صاحبزادہ شبیر حسن انصاری نے کہا کہ ابادی کے اعتبار سے سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد انتہائ ابتر صورتحال سے دوچار ہیں اہم شاہراہیں بھی سیوریج کے پانی سے بھری ہوئ ہیں حیدرآباد کے ترقیاتی کاموں کے لئیے آنے والے اربوں روپے کے پیکیج کی سخت مانیٹرنگ ہونی چائیے اس وقت ہر محکمے میں کرپشن کا دور دورہ ہے شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں 12 گھنٹہ تک گیس کی بندش عوام کے ساتھ ظلم ہے لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں ایسی ہی صورتحال بجلی کی ہے لوڈ شیڈنگ سے لوگ پریشان ہیں کوہسار کے مقام پر بنائے جانے والا فاطمہ میڈیکل کالج تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھی اب تک فعال نہیں بنایا جاسکا میڈیکل کالج فعال ہونے سے کسی ایک زبان نہیں بلکہ تمام زبانیں بولنے والوں کو فائدہ ہوگا نوجوانوں کو بہتر تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے صاحبزادہ شبیر حسن انصاری نے کہاکہ حیدرآباد میں کہیں بھی سلاٹر ہاؤس کی سہولت موجود نہ ہونے سے ہزاروں جانور گھروں میں ذبح کئیے جارہے ہیں جن سے بلدیہ عملہ ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ کی مد میں وصول کرتے ہیں ضلعی انتظامیہ کمشنر ڈپٹی کمشنر اور مئیر بلدیہ سمیت دیگر ادارے حیدرآباد کے مسائل حل کرنے کے ذمہ دار ہیں افسران دن 12 بجے تک دفاتر میں موجود نہیں ہوتے رات 12 بجے تک دفاتر کس قانون کے تحت کھلے ہوتے ہیں افسران کو وقت پر آفس پہنچنے اور آنے والے سائلین کے مسائل حل کرنے کا پابند بنایا جائے سندھ میں وسائل کی کمی نہیں نیتوں کا فرق ہے انہوں شہر کے سیاسی سماجی حلقوں پر بھی زور دیا کہ وہ حیدرآباد کے مسائل پر آواز اٹھائیں اور بلدیاتی انتخابات حلقہ بندیاں پر نظر رکھیں اور عوام آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حیدرآباد کا درد رکھنے والے حقیقی نمائندوں کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں
Posted inکراچی