

حیدرآباد(بیورو رپورٹ) حیدرآباد کے ایل پی جی(لیکویڈ پیٹرولیم گیس) کے دوکانداروں نے سی آئی اے پولیس پر اغواء برائے تاوان کا الزام لگاتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے سندھ ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری دانش احمد نے حیدرآباد پریس کلب میں فیروز خان حاجی عبدالقادر ودیگر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا سی آئی اے پولیس حیدرآباد نے ایل پی جی کا کاروبار کرنے والے کچھ دکانداروں کو اغواء کر کے لاپتہ کردیا ہے اور متعلقہ تھانے کی پولیس مغوی دکانداروں کے بارے میں کچھ بتانے کے بجائے سی آئی اے پولیس سے ہفتہ مقرر کر کے ڈیل کرنے کا مشورہ دے رہی ہے اور سی آئی اے پولیس پہلے تو گرفتاری سے انکاری تھی پھر فی دکاندار رہائی کیلئے 50 ہزار روپئے فی دکاندار تاوان ادا کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں ان کا کہنا تھا کہ پریٹ آباد واقعے کے وقت حیدرآباد میں ایل پی جی کی 200 کے قریب دکانیں تھیں کاروبار پر سختی کرنے کے بعد ان دکانوں کی تعداد تین سو سے ساڑھے تین سو تک پہنچ گئی کیونکہ حیدرآباد پولیس نے ایل پی جی کے کاروبار کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور دکاندار رشوت دیکر کاروبار کرنے پر مجبور ہیں انتظامیہ اس حوالے سے ایس او پیز کیوں مقرر نہیں کرتی اس لئے لوگوں کی زندگیوں کو دائو پر لگانے میں دکانداروں کے ساتھ پولیس کا بھی اتنا ہی کردار ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی کاروبار کے فروغ اور محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کام ہوتا ہے لیکن حیدرآباد میں کاروبار کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی محفوظ ماحول نہیں ہے پولیس کو رشوت دو پھر جو چاہے کرو انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور ایس ایس پی سے اپیل کی کہ ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کو جانی ومالی تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کو مطوبہ ٹریننگ کرائی جائیں تاکہ شہریوں کو محفوظ طریقے سے ایل پی جی مل سکے