حاجی نجم الدین چوہانجنرل سیکریٹری آٹا چکی اونرز ویلفئیر ایسوسی ایشن حیدرآباد

ممکنہ گندم بحران کے پیش نظر آٹا گندم کی امپورٹ کو یقینی بنایا جائے آٹا چکی اونرز ایسوسی ایشن حیدرآباد کا وزیرِ اعظم کو دوسرا خط

گندم کی نئ فصل اترنے کے صرف تین ماہ مءں 3000 روپے فی بوری کا اضافہ انتہائی تشویشناک ھے

محکمہ خوراک سندھہ سرکاری گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنے میں بری طرح سے ناکام

ذخیرہ اندوزوں سے گندم برآمد کر کے اسے اوپن مارکیٹ میں لایا جائے

حیدرآباد (پریس ریلیز): صوبہ سندھ سمیت ملک بھر میں آنے والے ممکنہ گندم بحران سے بچنے کے لیے آٹا چکی اونرز سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن حیدرآباد نے وزیرِ اعظم پاکستان کو دوسری مرتبہ خط لکھ کر فوری طور پر سرکاری اور نجی سطح پر گندم امپورٹ کرنے کے اقدامات کی اپیل کر دی ہے۔ خط کی نقول گورنر سندھ، وزیرِ اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر خوراک، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری خوراک، ڈائریکٹر خوراک سندھ، ڈویژنل کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک حیدرآباد اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر حیدرآباد کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔
آٹا چکی ایسوسی ایشن حیدرآباد کے جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان نے کہا ھے کہ سندھ میں فصل کی آمد کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوزوں نے کسانوں سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر خفیہ مقامات پر چھپا دی گئ ھے، جس کے باعث اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے گندم کی فصل کے وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 7800 روپے فی سو کلو تھی جو صرف تین ماہ میں 3000 روپے فی سو کلو کی بوری میں اضافے کے ساتھہ 10800 روپے کی سطح پر جا پہنچی ھے
محکمہ خوراک گندم کی خریداری کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ھو رہا ھے
وزیراعظم پاکستان کو لکھے گئے خط کے مطابق سندھ حکومت نے رواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم محکمہ خوراک اب تک صرف 80 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید سکا ہے، جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں انتہائی کم اور تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں گندم کے اس وقت خریداری کے لئیے موزوں نرخ ہیں اسکا بھرپور فائدہ اٹھاتے ھوئے گندم فوری امپورٹ کی جائے
حاجی نجم الدین چوہان نے نشاندہی کی کہ عالمی مارکیٹ میں اس وقت گندم کے نرخ مناسب سطح پر ہیں، لہٰذا حکومت فوری طور پر گندم امپورٹ کر کے نہ صرف ممکنہ بحران سے بچ سکتی ہے بلکہ عوام کو آٹے کی قلت اور مہنگائی کے اضافی بوجھ سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
آٹا چکی ایسوسی ایشن حیدرآباد نے یاد دلایا کہ 14 مئی کو وزیرِ اعظم پاکستان اور 20 اپریل 2026ء کو وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بھی خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں، جن میں گندم امپورٹ کرنے کے علاوہ ذخیرہ اندوزوں کے خفیہ ٹھکانوں میں چھپائی گئی گندم برآمد کرکے اوپن مارکیٹ میں فروخت کے لیے لانے کی استدعا کی گئی تھی۔
آٹا چکی اونرز سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ گندم بحران کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک بھر کے عوام کو آٹے کے بحران اور مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *