*جمہوریت کے نام پر عوام کی بےبسی*

*جمہوریت کے نام پر عوام کی بےبسی*
تحریر طاہر مغل
یہ تحریر ایک عام پاکستانی شہری کے دل کی آواز ہے جو اپنے معاشی مسائل مہنگائی اور سرکاری محکموں کی بھیڑ بھری پالیسیوں کے درمیان زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے جمہوریت کے نام پر عوام کی بے بسی کیا واقعی یہ عوامی خدمت ہے؟ہم ایک ایسے معاشرے میں جیتے ہیں جہاں ہر طرف قانون، نظم اور سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی اداروں کا بوجھ خود عوام پر ہی سب سے زیادہ پڑتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی روزگار کی کمی، اور بچوں کی تعلیم و مستقبل کی فکر تو دوسری طرف سرکاری محکموں ٹیکس وصولیوں اور مختلف افسران کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جمہوریت میں عوام کا کیا مقام ہے؟ کیا ہم اپنی محنت کا پھل خود دیکھ پاتے ہیں یا پھر یہ سب کچھ صرف چند لوگوں کی آسائشوں کا ذریعہ ہے؟ 
ایک عام دکاندار مزدور یا چھوٹے کاروبار کا مالک دن رات محنت کرتا ہے مگر جب وہ اپنی روزانہ کی کمائی کا حساب لگاتا ہے تو اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس کا ساٹھ سے ستر فیصد حصہ مختلف ٹیکسوں لائسنس فیسوں اور چیکنگ کے نام پر محکموں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔پیرا فورس یا مقامی انتظامیہ۔پھر لیبر ڈیپارٹمنٹ سماجی تحفظ کے ادارے- اس کے بعد ٹیکس محکمہ انکم ٹیکس سیلز ٹیکس پروفیشنل ٹیکس- پھر کارپوریشن – کنٹونمنٹ بورڈ- اور آخر پر پولیس، لائسنسنگ یا دیگر اداروں کا دور۔ یہ سلسلہ اتنا طویل ہے کہ کاروباری شخص اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کے لیے کما رہا ہے یا ان محکموں کی کارکردگی کے لیے۔ 
اگر ٹیکس اور چیکنگ کا مرحلہ ختم بھی ہو جائے تو توانائی کے بڑھتے ہوئے بل عوام کے لیے ایک علیحدہ مصیبت بن چکے ہیں۔ گھر چلانے، بچوں کو اسکول بھیجنے اور معمولی طبی سہولت حاصل کرنے کے لیے جو خرچ آتا ہے اس کا بڑا حصہ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں چلا جاتا ہے۔  نتیجہ یہ کہ ایک مہینے میں کمائی اتنی ہوتی ہے جتنی خرچ ہوتی ہے، بلکہ اکثر اوقات قرض لے کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ایک عام شہری جب اپنا گھر خریدتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ اب اس کی اپنی جگہ ہے لیکن پراپرٹی ٹیکس، سالانہ اپڈیٹس اور مختلف فیسوں کے بعد اسے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ تو گویا کرائے دار ہے۔ کیونکہ اگر وہ اسی رقم سے کوئی جگہ کرائے پر لے لے تو شاید اُسے کم خرچ آئے اور زیادہ سکون ملے۔ جب کوئی انسان اپنی محنت کا پھل نہ پائے اپنی اولاد کو اچھی زندگی نہ دے سکے اور روزمرہ کے نظام میں اپنی بے بسی محسوس کرے تو یہ صورت حال ذہنی دباؤ ڈپریشن اور مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح کچھ لوگ خودکشی تک کی نوبت پر پہنچ جاتے ہیں، کچھ اپنے بچوں کو پانی میں پھینک دیتے ہیں، تو کوئی ماں اپنے بچوں کے ساتھ زہر کھا کر یا پھندا لگا کر اپنی زندگی ختم کر لیتی ہے۔ یہ وہ المیے ہیں جو صرف خبروں کی زینت نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہیں جس کی جڑیں معاشی جبر اور سرکاری بےعملی میں پوشیدہ ہیں۔
جمہوریت کا مطلب یہ تو نہیں کہ صرف انتخابات کروائے جائیں اور پھر عوام کو بھول جائیں۔ حقیقی جمہوریت میں عوامی خدمت ان کی پریشانیوں کا حل اور انہیں بااختیار بنانا شامل ہے۔ مگر جب عوام کی آواز نہ سنی جائے، جب وہ محکموں کے درمیان بھاگنے پر مجبور ہوں اور جب ہر طرف صرف ٹیکس وصول کرنے والے ادارے ہوں تو پھر یہ جمہوریت کی توہین ہے۔آج کے پاکستان میں عام آدمی کے لیے چند سہولتیں ہیں مگر اس کے مقابلے میں مشکلات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکمران اپنے عہدوں پر صرف تنخواہوں اور مراعات کے لیے ہیں یا واقعی عوام کو بہتر زندگی دینا ان کا مشن ہے؟
اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستانی عوام بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ حوصلہ بھی ایک حد تک ہے۔ اگر ریاستی ادارے اسی طرح عوام کو صرف ایک مشین کا پرزہ سمجھیں تو نہ صرف معیشت کمزور ہوگی بلکہ معاشرتی بگاڑ اور ذہنی امراض بڑھیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمے باہم مربوط ہوں ٹیکس نظام سادہ اور منصفانہ ہو اور عوام کو ان کے حقوق سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات کا حقیقی حل فراہم کیا جائے۔ تب ہی جمہوریت کا دعویٰ بامعنی ہوگا اور عوام اپنی محنت کا پھل کھا سکیں گے جمہوریت صرف سیاسی نظام کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں حکمران اور عوام دونوں کے حقوق اور فرائض ہیں۔ مگر جب یہ معاہدہ یکطرفہ ہو جائے تو پھر عوام کے لیے صرف ایک ہی سوال رہ جاتا ہے کیا اس جمہوریت میں ہمارے لیے واقعی کوئی جگہ ہے یا ہم صرف ایک نمبر ہیں عوام کی آواز ہے اور یہی آواز کسی بھی جمہوری معاشرے کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے بشرطیکہ اسے سنا جائے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *