پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور بار بار اضافہ ملکی معیشت، صنعت، تجارت اور عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ، حکومت فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کرے: صدر حیدرآباد چیمبر سلیم میمن
حیدرآباد( ) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدرمحمد سلیم میمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار اور قلیل وقفوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت، صنعتی سرگرمیوں، تجارتی شعبے اور عام عوام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے فیصلے پہلے سے مہنگائی، توانائی بحران اور کاروباری مشکلات کا شکار ملک میں مزید معاشی بے یقینی پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل نے کاروباری برادری کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ جولائی 2026 میں پیٹرول کی قیمت تین مرتبہ بڑھائی اور دو مرتبہ کم کی گئی۔محمد سلیم میمن نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے مطابق صرف چند ہفتوں میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 20 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ جبکہ 2 روپے 32 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی،انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اس مسلسل ردوبدل نے کاروباری منصوبہ بندی، پیداواری لاگت، ٹرانسپورٹ اخراجات، سپلائی چین اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ اس کا براہِ راست اثر مہنگائی اور عام شہری کی قوتِ خرید پر بھی پڑ رہا ہے۔صدرچیمبر سلیم میمن نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف ایندھن مہنگا ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ خام مال کی ترسیل، مال برداری، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ، زرعی پیداوار، صنعتی پیداوار، تعمیراتی سرگرمیاں، پیکنگ، ڈسٹری بیوشن، کولڈ چین، گوداموں کے اخراجات اور سپلائی چین کا ہر مرحلہ مہنگا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً آٹا، چینی، سبزیاں، پھل، دودھ، ادویات، تعمیراتی سامان، گھریلو استعمال کی اشیاء اور دیگر تمام ضروری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے، جبکہ عام شہری کی آمدنی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چھوٹی صنعتیں پہلے ہی بجلی، گیس، بلند شرحِ سود، بھاری ٹیکسوں، مالیاتی اخراجات اور کمزور طلب کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث مقامی مصنوعات عالمی اور علاقائی منڈیوں میں اپنی مسابقت کھو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں کمی، سرمایہ کاری میں سست روی، برآمدات پر منفی اثرات اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ سلیم میمن نے کہا کہ کاروبار اور صنعت کا انحصار استحکام، پیش گوئی اور مستقل پالیسیوں پر ہوتا ہے۔ جب ایندھن کی قیمتیں بار بار تبدیل ہوں تو صنعتکار اپنی مصنوعات کی قیمت مقرر نہیں کر سکتا، تاجر مستقبل کی خریداری اور فروخت کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا، ٹرانسپورٹر کرایوں کا تعین نہیں کر سکتا اور سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس مسلسل غیر یقینی صورتحال نے کاروباری اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال حکومت کے فیصلوں کی بنیاد ہے تو حکومت کو اسی شفافیت کے ساتھ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ جب عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا مکمل فائدہ عوام اور کاروباری برادری کو کیوں نہیں پہنچتا۔ پالیسی سازی میں شفافیت اور تسلسل ہی اعتماد کی بنیاد ہے۔صدرچیمبر نے کہا کہ حکومت کو محض محصولات کے حصول کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے جو صنعت، تجارت اور برآمدات کو فروغ دے۔ معاشی استحکام کا راستہ پیداواری لاگت میں کمی، کاروبار دوست پالیسیوں، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے سے نکلتا ہے، نہ کہ مسلسل مہنگائی کے بوجھ سے۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر فوری نظرثانی کی جائے، پیٹرولیم لیوی اور دیگر قابلِ نظرثانی ٹیکسوں میں کمی لائی جائے، قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں شفافیت پیدا کی جائے، اور ایسی پالیسی اختیار کی جائے جس سے کاروباری برادری کو کم از کم ایک معقول مدت کے لیے اخراجات اور قیمتوں کا واضح اندازہ ہو تاکہ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو سکے۔
Posted inکراچی