روات یونیورسٹی فائرنگ کیس کی ممکنہ وجوہات اور شواہد و حقائق
میجر (ر) ساجدمسؔعودصادق نظامی
روات یونیورسٹی فائرنگ کیس سے جُڑے حقائق میڈیا میں جس طرح رپورٹ ہورہے ہیں یا انہیں جیسے “وردی اور گولی” یا پھر “فوجی وردی کے غلط استعمال” سے جوڑا جارہا ہے اس واقعہ کی حقیقت اس سے یکسر مُختلف ہے۔ اس کیس کے مرکزی کردار ہیلتھ سائنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر جدون خان ہیں جن کی کرپشن اور بدمعاشی مشہور ہے اور حال ہی میں اُن کے خلاف ہراسانی کے کیس کی ایف آئی آر بھی درج ہوئی جسے معافی تلافی کے بعد ختم کرایاگیا۔ اس واقعہ کی تہہ تک پہنچنے سے پہلےاور “پروفیسر جدون خان” کی شخصیت کے بارے میں ایک اور اہم پہلو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہشخص افغانستان خان سے والہانہ مُحبت اور افواج ِ پاکستان سے شدید بُغض کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔۔ ڈاکٹر عینہ چار سدہ کے رہنے والے “کرنل اسفند یار ولی” کی زوجہ ہیں جو سرحد یونیورسٹی میں ایچ آر مینجر اور اسٹوڈنٹس افیئرز کی انچارج ہیں۔ پروفیسر جدون خان نامی ایک ثابت شُدہ کرمنل اُن کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے اور اُس کے خلاف محکمانہ کاروائی میں ایچ آر مینیجر اور اسٹوڈنٹس افئیرز کی انچارج ہونے کے ناطے ایک اہم فریق ہیں۔
پروفیسر جدون خان کی معطلی اور ممکنہ محکمانہ کاروائی کے پیشِ نظر طلباء نے احتجاج شروع کردیا اوراسی احتجاج میں ڈاکٹر عینہ کا طلباء نے پروفیسر جدون خان کی مخالف جانتے ہوئے گھیراؤ کیا۔ اسی اثناء میں کرنل اسفند یار ولی وہاں پہنچے اور اس ہلڑ بازی اور ہجوم سے اپنی زوجہ “ڈاکٹر عینہ” کو جب نکال کر لے جانے لگے تو طلباء اُن کے باوردی خاوندکو دیکھ کر مزید مشتعل ہوگئے۔ اس ساری صورتحال میں یہناممکن نہیں کہ اس وقت جو فوجی وردی کےخلاف عوام کی رگوں میں نفرت کا مصنوعی زہر بھرا گیا ہے اُس نے بھی اپنا رنگ دکھایاہو اور طلباء نے کرنل صاحب پر بھی ہوٹنگ کی ہوگی جس پر اُن کا مشتعل ہونا کوئی مُعمہ یا تعجب والی بات نہیں۔ اسی طرح یہ معاملہ تلخ کلامی سے آگے بڑھ کر کرنل صاحب پر کئی مشتعل طلباء کے دھاوا بولنے تک پہنچا جس کے بعد کرنل اسفند اپنے اور بیوی کے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی اور اپنی بیوی کو وہاں سے نکال کر ایڈمن بلاک میں لےگئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں طلباء میں سے ایک شخص کو سبز ڈنڈے یا پائپ سے کے ساتھ کرنل اسفند پر ضرب لگاتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
میڈیا میں کرنل اسفند یار ولی وردی میں یونیورسٹی کیوں گئے، انہوں نے فائرنگ کیوں کی، وہ وردی کا رعب دکھانے گئے اور یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں اُن کو دخل اندازی نہیں کرنی چاہیئے وغیرہ وغیرہ جیسے دیگر نان ایشو موضوعات کو اہمیت دے کر یا بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا مقصد واقعہ سے جُڑے حقائق کو مسخ کرنا اور پروفیسر “جدون خان” نامی کرمنل شخص کے خلاف محکمانہ کاروائی کو روکناہے۔ ان تجزیوں اور اور تبصروں کا دوسرا مقصد اس واقعہ کو جواز بنا کر عوام کے ذہنوں میں فوج کے خلاف نفرت پھیلانا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی “وی لاگ” اور پراپیگنڈا اکاؤنٹس سے افواجِ پاکستان پر لعن طعن اور گالم گلوچ کا ایک منظم سلسلہ شروع ہوچُکاہے۔ انہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں دُشمن کے چُھپے ہوئے کئی ایجنٹ ہوں گے جن کو عام لوگ پہچانتے تک نہیں لیکن اُن کے پاک فوج کے مخالف زہریلے پراپیگنڈے کا شکار ہورہے ہوں گے۔ یہاں واضح رہے کہ پاکستانی کے سیکیورٹی کے ادارے افغانستان اور بھارت سے آپریٹ ہونے والے اکاؤنٹس سامنے لاچُکے ہیں۔
موصوف کرنل صاحب کی وردی میں آمد یا فائرنگ کو غلط رنگ دینےسے پہلے غور وفکر کیا جائے کہ کیا کوئی بھی باہوش اور عقلمندشخص (جو یقینا کرنل اسفند یار ولی ہیں) محض وردی اور ایک پستول سے مشتعل ہجوم سے لڑنے آئے گا۔ کرنل صاحب کی یونیورسٹی آمد مشکل وقت میں اپنی زوجہ کو بچانے کی نیت کو غلط رنگ دیکر اس واقعہ کو فوج کے خلاف رنگ دینا بڑا بامقصد ہے۔ کرنل اسفند کا اپنی بیوی کو غنڈوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے والے گینگ سے بچانے کے لیئے باوردی پہنچنا ایک فطری اور اضطرابی عمل تھا۔ اسی طرح ذاتی ہتھیار سے فائرنگ خود کو اور اپنی بیوی کو بچانے کے لیئے تھا، نہ کہ دوسروں پر رعب ڈالنے کے لیئے، جسے غلط رنگ دینا فوج سے بغض کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ آج کی بات نہیں افواجِ پاکستان سے بین الاقوامی قوتوں کا بغض کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں لیکن اسے حقیقی معنوں میں مخالفین کے ہاتھوں چھینے جانے والے اقتدار کی خاطر مہمیز لگانے والے پی ٹی آئی کے سربراہ ہیں جو انجانے میں بین الاقوامی ایجنڈے کا نہ صرف شکار خود ہو چُکے ہیں بلکہ آدھی سے زیادہ قوم کو بھی گمراہ کرچُکے ہیں۔
فوج کا احتسابی عمل جو سینیئر ترین قیادت کی قانون کے خلاف چلنے اور ان کے خلاف تادیبی کے مثالوں سے بھرا پڑا ہے اور کسی تعارف کا محتاج نہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ فوج کرنل اسفند یار ولی فائرنگ کیس کے معاملے پر بھی خاموش نہیں رہے گی۔ اگر کرنل اسفند یار والی کسی حقیقی جُرم کے مرتکب پائے گئے تو فوج اپنی ریپوٹیشن کےمطابق احتساب کے حقیقی تقاضے پورے کرنے کے لیئے اس معاملے کو ہینڈل کرے گی۔ یہاں یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا پاکستانی قانون اور عدالتوں میں اتنا دم خم ہے کہ ہریونیورسٹی میں پروفیسرجدون خان جیسے گینگسٹرجن کا کام ہی حصولِ علم کی خاطرآئے ہوئے طلباء کو گمراہ کرکے اپنے ایجنڈے کے لیئے استعمال کرنا ہے، کا احتساب کرسکے؟ اسی طرح پروفیسرجدون خان کے ورغلائے ہوئے جتھے کا احتساب بھی بہت ضروری ہے۔ افواج پاکستان کو چاہیئے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ملکر ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ہوں۔ یہ کمیٹی حقائق کو قومکے سامنے لائے تاکہ اس واقعہ کے حقیقی مجرم یا مُجرم کو اس کے انجام تک پہنچایا جاسکے۔
Posted inخصوصی رپورٹ