فوج کا احتسابی عمل جو سینیئر ترین قیادت کی قانون کے خلاف چلنے اور ان کے خلاف تادیبی کاروئیوں کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے اور کسی تعارف کا محتاج نہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ فوج کرنل اسفند یار ولی فائرنگ کیس کے معاملے پر بھی خاموش نہیں رہے گی۔ اگر کرنل اسفند یار ولی کسی حقیقی جُرم کے مرتکب پائے گئے تو فوج اپنی ریپوٹیشن کےمطابق احتساب کے حقیقی تقاضے پورے کرنے کے لیئے اس معاملے کو ہینڈل کرے گی۔ یہاں یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا پاکستانی قانون اور عدالتوں میں اتنا دم خم ہے کہ ہریونیورسٹی میں پروفیسرجدون خان جیسے گینگسٹرجن کا کام ہی حصولِ علم کی خاطرآئے ہوئے طلباء کو گمراہ کرکے اپنے ایجنڈے کے لیئے استعمال کرنا ہے، کا احتساب کرسکے؟ اسی طرح پروفیسرجدون خان کے ورغلائے ہوئے جتھے کا احتساب بھی بہت ضروری ہے۔ افواج پاکستان کو چاہیئے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ملکر ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ہوں۔ یہی کمیٹی حقائق کو قوم کے سامنے لائے تاکہ اس واقعہ کے حقیقی مجرم یا مُجرم کو اس کے انجام تک پہنچایا جاسکے۔
Posted inخصوصی رپورٹ