سیکسن انہالٹ کے انتخابات میں اے ایف ڈی کی ممکنہ تاریخی کامیابی کیا انتہائی دائیں بازو پہلی بار کوئی جرمن ریاست سنبھال لے گا؟

سیکسن انہالٹ کے انتخابات میں اے ایف ڈی کی ممکنہ تاریخی کامیابی کیا انتہائی دائیں بازو پہلی بار کوئی جرمن ریاست سنبھال لے گا؟
اتوار کو جرمنی کی ریاست سیکسن-انہالٹ (Sachsen-Anhalt) میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں، اور تمام سروے اور سیاسی تجزیے اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ الٹرنیٹیو فارجرمنی (AfD) پارٹی اس ریس میں واضح برتری کے ساتھ آگے ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی واقعہ نہیں، بلکہ جرمنی کی مابعد-جنگی تاریخ میں ایک ممکنہ سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔اگر AfD واقعی اتنی بڑی کامیابی حاصل کر لیتی ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت (یا کم از کم مضبوط ترین پارٹی بن کر اتحاد کی قیادت) حاصل کر لے، تو یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد پہلا موقع ہو گا جب کوئی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کسی جرمن ریاست کی باگ ڈور سنبھالے گی۔ جرمنی کا آئین اور انتخابی نظام اکثریتی حکومتوں کے خلاف مزاحم ہے، لیکن اگر AfD کا ووٹ شیئر 30 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے، جیسا کہ کچھ سروےز میں دکھایا جا رہا ہے، تو دیگر جماعتوں کے لیے اسے نظرانداز کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔یہ صورتحال نہ صرف سیکسن-انہالٹ کے لیے اہم ہے، بلکہ پوری جرمن سیاست کے لیے ایک زلزلہ ہے۔ AfD، جو اپنی سخت امیگریشن مخالف پالیسیوں، یورپی یونین سے متعلق شکوک، اور روس کے حوالے سے مبہم موقف کے لیے جانی جاتی ہے، اب تک تمام دوسری بڑی جماعتوں (CDU، SPD، Greens، FDP) کی طرف سے ایک ‘سیاسی دیوار’ کا سامنا کرتی رہی ہے – یعنی انہوں نے AfD کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد یا تعاون سے صاف انکار کر دیا تھا۔ لیکن اگر AfD کا ووٹ اتنا بڑھ جائے کہ کوئی بھی مستحکم مخلوط حکومت اس کے بغیر نہ بن سکے، تو یہ دیوار پہلی بار دراڑ کھا سکتی ہے، یا پھر جرمنی کو طویل سیاسی تعطل اور نئے انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مقامی سطح پر سیکسن-انہالٹ پہلے ہی مشرقی جرمنی کی ان ریاستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں AfD کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں، جہاں لوگ معاشی تبدیلیوں، آبادی کے زوال، اور پناہ گزینوں کی آمد سے پریشان ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران AfD نے انھی خدشات کو ہوا دی ہے، جبکہ روایتی جماعتیں اس کے مقابلے میں ایک غیر موثر اور مربوط پیغام دینے میں ناکام نظر آتی ہیں۔
تاہم، اس کامیابی کی ایک الٹی تصویر بھی ہے – اگر AfD واقعی حکومت میں آتی ہے تو اسے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا، جس میں مالیاتی منصوبہ بندی، انتظامی فیصلے اور وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی شامل ہے، جو اس کی مقبولیت کو مزید آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، جرمنی کی عدلیہ اور انٹیلیجنس ایجنسیاں پہلے ہی AfD کی بعض شاخوں کو ‘انتہائی دائیں بازو کے شبہ’ کے زمرے میں رکھ چکی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ریاستی ادارے اس پر کڑی نظر رکھیں گے۔اتوار کا دن جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، سیکسن-انہالٹ کے عوام، سیاسی مبصرین، اور برلن کی وفاقی حکومت سبھی کی نگاہیں رائے شماری کے بوتھوں پر جمی ہوئی ہیں۔ چاہے AfD واضح اکثریت حاصل کرے یا صرف مضبوط ترین پارٹی بن کر ابھرے، ایک بات طے ہے کہ یہ انتخابات جرمن سیاست کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے اور یورپ بھر میں دائیں بازو کی عوامیت پسند لہر کو ایک نیا زور دیں گے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *