قائدِ اعظم کا پاکستان آج کہاں ہے؟

تحریر طاہر اشرف
قائدِ اعظم کا پاکستان آج کہاں ہے؟
یہ سوال آج ہر اس انسان کے دل میں اٹھتا ہے جس نے کبھی اس مٹی کی مہک کو سنا جس نے کبھی اس سرزمین کی آزادی کی کہانیاں سنی ہیں۔ لیکن آج جب ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں، تو ایک ایسا منظر دیکھتے ہیں جس نے ہمارے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔وقت نے صرف ایک ہی تبدیلی دیکھی ہے امیر طبقہ اور بھی امیر ہوتا گیا اور غریب آدمی اپنی بے بسی میں اور بھی گہرا دھنستا گیا۔ پنجاب کی گلیوں میں پچھلے چند مہینوں سے ایک ایسی داستان رقم ہو رہی ہے جو کسی مظلوم کی فریاد سے کم نہیں۔ چوک اور بازار کے اس چوراہے پر جہاں ہر شخص اپنی روزی کی تلاش میں بھاگتا ہے وہیں موت کا سایہ بھی منڈلاتا ہے۔ کسی کو چلان کے ڈر سے دل کا دورہ پڑتا ہے تو کسی کو پنجاب پولیس کے دھکے اس دنیا سے رخصت کر دیتے ہیں۔کسی غریب کو نہر کے بہاؤ میں پھینک دیا جاتا ہے اور اس کے گھر کا واحد کفیل موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ پھر الٹا پرچہ انہی مقتولوں کے نام لکھ دیا جاتا ہے اور قاتل سرِ عام گھومتے ہیں جیسے قانون نے انہیں کبھی چھوا ہی نہ ہو۔کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب قائدِ اعظم نے دیکھا تھا؟ کیا یہ وہ سرزمین ہے جہاں غریب کو سڑکوں پر مارا جائے اور اس کی موت پر کوئی ماتم بھی نہ کرے؟ کیا یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ہسپتالوں میں معصوم چودہ بچے آگ کی بھٹی میں جل کر راکھ ہو جائیں اور وزیر صاحب پریس کانفرنس کر کے ہر الزام سے بری الذمہ ہو جائیں؟ کیا یہ قائدِ اعظم کا پاکستان ہے؟ہر سیاستدان اپنے آپ کو عوامی نمائندہ کہتا ہے، لیکن کیا اس نمائندگی کا کوئی معیار ہے؟ کیا عوامی نمائندے کی تنخواہ ہوتی ہے؟ کیا اسے امارات ملتی ہیں؟ کیا اس کا علاج اور اس کے بچوں کی تعلیم عام آدمی کے پیسوں سے ہونی چاہیے؟ کیا ٹیکس صرف غریب آدمی دیتا ہے؟ کیا ان کروڑوں کی گاڑیوں کا پیٹرول گیس، بجلی فون اور سہولیات کا خرچہ عام آدمی کی جیب سے ادا ہوتا ہے؟آج عام آدمی نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ بس ہم سے جو ہو سکتا ہے ہم نے برداشت کر لیا لیکن کیا قائدِ اعظم نے ان عیاشیوں کے لیے پاکستان بنایا تھا؟ کبھی نہیں۔ قائدِ اعظم نے تو عام آدمی کو پہچان دی عزت دی معیار دیا اور سکھایا کہ اپنی بات پر ڈٹے رہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہر شہری کو اپنے حقوق معلوم ہونے چاہئیں۔ لیکن آج طاقت کا یہ مافیا، جو یورپ میں اپنے کاروبار اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کا انتظام کرتا ہے یہ سب کس کی پلانٹنگ ہے؟ یہ لوگ کہاں سے آئے؟ یہ کس نظام کی پیداوار ہیں؟ کیا یہ پاکستان قائدِ اعظم والا پاکستان ہے؟جو ہم نے پڑھا جو ہم نے سنا، جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ پاکستان اب کہیں نہیں بچا۔اب پاکستان چند خاندانوں کا پاکستان ہے۔ اب یہاں وہی ہوگا جو یہ چند خاندان چاہیں گے۔ عام آدمی کے پاس اب صرف ایک ہی حق بچا ہے — مرنے کے بعد اس زمین میں دفن ہونے کا۔ لیکن وہ بھی اب مفت نہیں۔ ایک قبر کی جگہ بھی خریدنی پڑتی ہے، اور پیسے نہ ہوں تو وہ بھی نصیب نہیں ہوتی یہ سوال آج ہر دل میں ہے۔ لیکن جواب شاید اسی دن ملے گا جب ہم خود بیدار ہوں گے۔ جب ہم اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے جب ہم اپنے نمائندوں سے حساب طلب کریں گے جب ہم یہ ماننا چھوڑ دیں گے کہ ہم بے بس ہیں۔ قائدِ اعظم نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ “ڈرو نہیں، اپنی بات کہو، اپنی عزت کے ساتھ جیو شاید پھر وہ دن آئے جب یہ پاکستان واقعی قائدِ اعظم کا پاکستان بنے گا جہاں غریب کو پہچان ملے عزت ملے جہاں انصاف کے دیوتا سرِ عام گھومتے نظر آئیں۔تب تک ہم بس یہ دعا کر سکتے ہیں کہ یہ اندھیرا کبھی ختم ہو اور صبح کا سورج اس مٹی پر دوبارہ روشن ہو

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *