کمشنر حیدرآباد کی زیر صدارت سوشل پروٹیکشن یونٹ کمیٹی کا اجلاس، بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات پر زور
حیدرآباد، 25 ستمبر ( )، ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی کی زیر صدارت سوشل پروٹیکشن یونٹ کمیٹی کا اجلاس کمشنر آفس حیدرآبادمیں منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن، اسسٹنٹ کمشنر جنرل مس صائمہ نور، انچارج چائلڈ پروٹیکشن یونٹ شیزا فاطمہ، ڈی ایس پی کینٹ مس پارس، اے ایس پی زین رضا، اے ڈی لوکل گورنمنٹ مس ماروی سومرو، حیدرآباد، این جی اوز کے ترجمان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں بچوں اور خواتین کو درپیش مسائل، متاثرہ اور لاوارث بچوں کے تحفظ، شیلٹر ہومز، چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی کارکردگی اور مختلف اداروں کے درمیان مو¿ثر رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پرسوشل ویلفیئر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ایک کیس میں پولیس کے تعاون سے ایک 18 سالہ لڑکی کو بروقت بازیاب کرواکے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ متاثرہ افراد کو ابتدائی طور پر شیلٹر ہوم منتقل کرنے اور ضرورت پڑنے پر مناسب اداروں میں داخل کرانے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق کسی بھی معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یتیم، لاوارث اور استحصال کا شکار بچوں کی نشاندہی کرکے متعلقہ محکمے مشترکہ طور پر کارروائی کریں، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ضرورت کے مطابق شیلٹر ہوم منتقل کیا جائے۔انہوں نے حیدرآباد میں لاوارث بچیوں کے لیے مناسب شیلٹر کی ضرورت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا کہ دارالاطفال اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کو مزید مو¿ثر اور بااختیار بنایا جائے۔ کمشنر حیدرآباد نے کہا کہ متعلقہ اداروں، این جی اوز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔کمشنر حیدرآباد نے ہدایت کی کہ ڈویژن کی سطح پر ایک اجلاس منعقد کرکے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے کردار اور مختلف اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے جبکہ 1121 چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ہیلپ لائین نظام کو مزید فعال بنانے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ بچوں اور خواتین کو بروقت مدد اورتحفظ فراہم کیا جاسکے۔ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے سوشل ویلفیئر اور چائلڈ پروٹیکشن ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ این جی اوز کو مو¿ثر انداز میں شامل کرکے دارالامان اور دیگر چائلڈ سینٹرز کی خدمات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔اجلاس میں شیلٹر ہوم کی عمارت، اس کی دیکھ بھال، متاثرہ بچوں کی بحالی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری سمیت دیگر امور پر بھی غور کیا گیا۔
Posted inکراچی