واسا حیدرآباد کی ناقص کارکردگی کے باعث شہر میں پانی کا شدید بحران، عیدالاضحیٰ پر بھی شہری بنیادی سہولت سے محروم رہے
حیدرآباد( )حید ر آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے واسا حیدرآباد کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر پانی کی عدم دستیابی اور ناقص معیار کا پانی فراہم کرنا واسا کی انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ عیدالاضحیٰ جیسے اہم مذہبی تہوار کے موقع پر بھی شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر رہی، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صدر چیمبر نے کہا کہ لگ ایسا رہا ہے کہ شہر حیدرآباد کو کراچی کی طرز پر ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑا جارہا ہے حیدرآباد کے بہت سے علاقوں میں مہینوں تک پانی کی سپلائی نہی کی جارہی جہاں ٹینکر مافیا کا راج چل رہاے ان علاقوں میں سر فہرست کوہسار،لطیف آباد، قاسم آباد، حالی روڈ، اسٹیشن روڈ، پھیلیلی، شاہی بازار، اور اس سے متصل علاقے شامل ہیں۔ صدر چیمبر نے کہا کہ واسا حیدرآباد شہریوں کو نہ تو مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے اور نہ ہی پانی کے معیار کو یقینی بنا سکا ہے۔ جن علاقوں میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہاں بھی پانی انتہائی بدبودار، گدلا اور مضرِ صحت ہے، جو انسانی استعمال کے لیے قطعی طور پر موزوں نہیں۔یہ ادارہ آج بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اپنے مالی معاملات مؤثر انداز میں سنبھالنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، اسی وجہ سے ملازمین تاحال تنخواہوں سے محروم ہیں۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پانی کی شدید قلت اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی ستھرائی کے درپیش مسائل کے باوجود ادارے کو انتظامی طور پر عملاً لاوارث چھوڑ دیا گیاہے۔ نتیجتاً بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہیں ہو پا رہیں، بلکہ یہ ادارہ عوام کی مشکلات کم کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافے کا سبب بنتا جا رہا ہے۔صدر حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری نے کہا کہ پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ شہر میں سیوریج کا نظام بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ شہر کے متعدد تجارتی اور رہائشی علاقوں میں عیدالاضحیٰ سے قبل جمع ہونے والا سیوریج کا پانی آج تک نکالا نہیں جا سکا، جس کے باعث شہریوں، تاجروں اور خریداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گندگی اور تعفن کے باعث نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے واسا کوHW&SCمیں تبدیل کرنے کے باوجود شہریوں کو کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ادارے کی کارکردگی میں بہتری آنے کے بجائے پانی کی فراہمی اور سیوریج کے مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ شہری آج بھی صاف پانی، نکاسی آب اور بنیادی بلدیاتی سہولیات کے لیے پریشان ہیں۔صدر چیمبر نے وزیراعلیٰ سندھ، میئر حیدرآباد اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے، پانی کی قلت اور نکاسی آب کے مسائل کے مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور عوام کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے۔صدر چیمبر نے کہا کہ حیدرآباد کے شہری مزید غفلت اور لاپروائی کے متحمل نہیں ہو سکتے، لہٰذا واسا حیدرآباد اور ضلعی انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔
Posted inکراچی