حیدرآباد۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ دیگر ساتھیوں روشن برڑو اور آفتاب خانزادہ کے ہمراہ پریس کلب پر پریس کانفرنس کررہے ہیں

حیدرآباد سندھ یونائٹیڈ پارٹی ( SUP ) کے صدر سید زین شاہ نے سندھ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا NFC ایوارڈ اور 18 ویں آئینی ترمیم پر سودے بازی کی گئ ہے سندھ کے وسائل وفاق کے حوالے کردئیے گئیے ہیں صدر آصف علی زرداری کو اقتدار کی ہوس ہے وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے اس موقع پر روشن برڑو اور آفتاب خانزادہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے سید زین شاہ نے کہاکہ ملک کو غیر آئینی طریقے سے چلایا جارہا ہے حکمرانوں کی جانب سے وفاقی اور صوبائی بجٹ کے وقت غیر قانونی نیشنل اکنامک کمیشن بنایا گیا جس کے تحت اب سندھ وفاق کو پانچ ارب روپے دے گا اس رقم سے ڈیمز بنائے جائیں گے جو سندھ کے عوام کا معاشی قتل کرنے کے مترادف ہے اس اقدام سے صوبے میں تعلیم صحت اور دیگر شعبے متاثرہونگے صوبوں کا حصہ وفاق لے گیا ہے جبکہ صوبوں کو وفاق سے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے سید زین شاہ نے کہاکہ اس سے قبل 8 جولائ 2024 کو صدر آصف علی زرداری نے چھ کینالزمنصوبے کی منظوری دی سید زین شاہ نے کہاکہ این ایف سی میں 57 فیصد حصہ صوبوں کا اور 43 فیصد حصہ وفاق کا ہے اب صوبوں کے لئیے حصہ 36 فیصد بچا ہے ترمیم کے بعد 18 ویں آئینی ترمیم عملی طور پر اپنا وجود کھو چکی ہے اب سندھ سے پیسہ لیکر سندھ کے ہی ہاریوں کسانوں اور عوام کے خلاف پالیسیاں لائ جائیں گی اسٹرٹیجیک ڈیمز کے نام پر نئے منصوبےلائے جارہے ہیں سندھ کے وسائل اور پانی پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے سید زین شاہ نے کہاکہ سندھ پہلے ہی تعلیم اور صحت کا نظام تباہی سے دوچار ہے سندھ کے 80 لاکھ بچے اسکولزسے باہر ہیں ایریگیشن کا نظام تباہ حال ہے سندھ پر پیپلز پارٹی گزشتہ 18 سالوں سے حکمرانی کررہی ہے سندھ کے عوام بھوک و افلاس میں مبتلا ہیں ایک تہائ افراد ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں کرپشن اور کمیشن کا دور دورہ ہے ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگر سندھ کی وحدت پر بات آئ تو اس کا تحفظ کریں گے ایک سوال کے جواب میں سید زین شاہ نے کہاکہ 28 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ جب سامنے آئے گا تو اس پر بات ہوگی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا سید زین شاہ نے بجٹ میں ملازمین تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کو ناکافی قرار دیا

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *