کشمیرکرائسز : بھارتی ایجنڈا اور پی ٹی آئی کا منفی طرزِ سیاست


میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
سن 2023ء میں جب کشمیر میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی بُنیاد رکھی گئی اس وقت اس کو پی ٹی آئی کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ مرکزی حکومت اورآرمی کی مخالفت میں ایک بار پھر پی ٹی آئی عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں میدان میں نکل آئی۔ شاید پی ٹی آئی اب ایک سیاسی جماعت کی بجائے وہ جتھہ بن چُکا ہے جس کا سیاسی کردار اب مرکزی حکومت اور آرمی کی مخالفت کرنے کے سوا کُچھ نہیں۔ اس شدت اور انتہاء پسندانہ افکار کی مالک جماعت اور قیادت جس نے بہت سارے معصوم ذہنوں کو گمراہ کررکھا ہے وہ یہ بھول گئی ہے کہ وہ اسی شاخ کو کاٹ رہی ہے جس پر اُس کا آشیانہ ہے۔ پی ٹی آئی کے پاکستان سے بھاگے ہوئے یوٹیوبرز “میجر عادل راجہ، صابر شاکر، شہباز گل، کیپٹن مہدی، صدیق جان، اسد طور اور عمران ریاض جیسے درجن بھر” اب کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا ایسے چلا رہے ہیں جیسے یہ اُن کا ذاتی کام اور ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ان کے فالورز لاکھوں کی تعداد میں سوشل میڈیا پر مذکورہ کمیٹی کے حق میں بھارتی پراپیگنڈا مُہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی قیادت نے ایک بڑی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کشمیر کے معاملے پر عوامی ایکشن کمیٹی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔عام ذہنوں میں سوال پیدا ہورہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی قیادت نے سوشل میڈیا پر عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کی وائرل آڈیوز نہیں دیکھیں؟ کیا پی ٹی آئی نے عوامی ایکشن کمیٹی کے کشمیر اور پاکستان مخالف ایجنڈے سے مکمل اتفاق کرلیا ہے؟ کیا یہ رہنماء یہ نہیں جانتے کہ آرمی اور کشمیر کس کا ٹار گٹ ہیں؟ بانی پی ٹی آئی نے قوم کو جو خوابوں کا سراب دکھایا تھا اُس کا سحر تو کُھلا ہی لیکن مُلک کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہی بانی نے ثابت کیا کہ وہ انتہاء پسندانہ افکار کا مالک ہے اور بین الاقوامی سیاست کی باریک بینی سے مکمل نابلد ہے۔ ہر ایک کو غلط سمجھنا، سب سے دُشمنی کا جیسے اُسے جنون تھا لیکن اُس نے یہی مرض پاکستانی یوتھ میں بھی انجیکٹ کردیا۔ آج پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مُلکی مفادات کی پرواہ بھی نہیں کرتا اور دُشمن کے ہر ہتھکنڈے کا آلہ کار بن جاتا۔ عوامی ایکشن کمیٹی جس طرح بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے پی ٹی آئی فالورز کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔
پاکستانی سیاسی کلچر پر نظر رکھنے والے اس کے نشیب وفراز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاکستان کو ورثے میں سیاسی کلچر ملا اُس میں ان چند طاقتور خاندانوں کا قبضہ تھا جو کسی نہ کسی طرح مغربی تہذیب سے یا تو ذہنی طور پر مُتاثر تھے یا برطانوی سامراجی نظام سے مُستفید ہونے والے تھے۔ اُس وقت پاکستان کی سب بڑی جماعتوں میں مُسلم لیگ اور عوامی لیگ (جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے ساتھ یہاں سے ختم ہوگئی) تھیں۔ مُسلم لیگ کے علاوہ آزاد ریاستوں میں “آل جموں کشمیر مُسلم کانفرس” وہ کشمیریوں کی سیاسی جماعت تھی جس نے قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان کے الحاق کا نعرہ لگایا۔ مُسلم لیگ ٹکڑوں میں بٹتی رہی کبھی “قاف لیگ”،کبھی نون لیگ نے اور کبھی “پگاڑا لیگ” اس کے بطن سے نکلیں۔ “نون لیگ” البتہ وہ جماعت ہے جو ایک مضبوط دائیں بازو والی جماعت بنی 30 نومبر 1967ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی بنائی۔ پاکستان کی تیسری بڑی “پارٹی پاکستان تحریک انصاف” کی 25 اپریل 1996ء کو معروف کرکٹر عمران خان نے بُنیاد رکھی۔ اب تک یہی تینوں بڑی پارٹیاں ہیں جو مرکز میں حکومت بنا چُکی ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی نسبت سیاست میں نووارد ہے اور ابھی تک اسے صرف ایک بار مرکز میں حکومت بنانے کا موقعہ ملاہے۔ اس سے قبل ایک مُدت سے اقتدار کے لیئے نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں کھینچا تانی چلتی رہی۔ ایک دوسرے کی حکومت گرانا، دوسرے پارٹی کے بندے توڑنا، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنااور آرمی کو سیاست میں گھسیٹنا (جسے چور دروازہ کہا جاتا ہے) یہ پاکستانی سیاسی کلچر کا مُستقل حصہ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی اقتدار کے ایوانوں میں اسی انداز میں پہنچی۔ اُمید کی جارہی تھی کہ یہ پارٹی پاکستانی سیاست میں “اسٹیٹس کو” کو توڑے گی اور ہوا بھی ایسا لیکن اس پارٹی نے ایک ایسا ہائپر موڈ اختیار کیا جس میں اپنی مقبولیت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بانی پارٹی نے آرمی سمیت پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کی قیادت کو “چور، کرپٹ” کہہ کر پراپیگنڈا کی ایک منظم تحریک چلائی جس نے روایتی حریفوں (دونوں بڑی پارٹیوں) کو اس کے خلاف مُتحد کردیا یوں دونوں پارٹیوں نے ملکر سن 2021ء میں تحریک انصاف کو اقتدار سے باہر نکال مارا۔
اقتدار سے نکلنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام توپوں کا رُخ افواج پاکستان کی طرف ہوگیا۔ یہی تو بین الاقوامی سیاسی کھیل کی منشا تھی اور پاکستان کا ازلی دُشمن بھارت بھی یہی چاہتا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے مضبوط میڈیا سیل کے پیچھے بھارت چُھپ گیا کیونکہ اب بھارتی ایجنڈا چلانے کے لیئے اُسے نیا حلیف مل گیا جو بھارت کے لیئے مُفت کام کررہا تھا۔ بھارتی اور مغربی ایجنٹ اس جماعت کی صفوں میں یوں چُھپ گئے کہ ان کو علیحدہ کرنا مُشکل ہوگیا۔اقتدار سے نکلنے کے بعد جب پی ٹی آئی کی حکومت صرف کے پی کے میں رہ گئی تو پہلے اس نے مرکزی حکومت کی افغانستان پالیسی سے مخالف راستہ اپنایا جس سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیئے بھارت اور افغانستان کو پاکستان میں دراندازی اور دہشتگردی میں آسانی ہوگئی۔ گویا بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج افغانی حکومت کو ڈالروں پر اور کے پی کے حکومت کی مُفت میں سپورٹ مل گئی۔ اسی طرح جب بلوچستان میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الہندوستان ایکٹیو ہوا مرکزی حکومت اور آرمی مخالف پی ٹی آئی انجانے میں بھارت کے کام آنے لگی۔
تمام پاکستانیوں اور مُحب وطن کشمیریوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے اور پاکستان کے بغیر کشمیر کا جو حال ہوگا اس کا اندازہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ بھارتی سلوک سے لگایا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی اور مُحبِ وطن فالورز اور کشمیری نوجوانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ دُشمن کونسی چال چل رہا ہے۔ کشمیر کو اس بھارتی جال سے نکالنے کے لیئے ہر محبِ وطن پاکستانی اور کشمیری کو آگے آنا ہوگا۔ متنازعہ سیٹوں کو ختم کرنے سے کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے دُشمن کا ایجنڈا ضرور پورا ہوگا۔ صورتحال دُشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والی “عوامی ایکشن کمیٹی” اپنے عوام ایجنڈے سے بہت دور نکل کر کشمیر کاز کو تباہ کرنے کے پراجیکٹ پر بھارت کی ہمنوا بن چُکی ہے۔ کمیٹی کے سرکردہ رہنما لاشیں گرا کر عوامی جذبات کو اُکسانے کی سازش میں ملوث ہیں۔ کمیٹی کے احتجاجی پروگرام کے بائیکاٹ اور اس سے نہ صرف علیحدگی بلکہ اس کی مخالفت میں ہی کشمیر کاز اور پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا راز ہے۔ ریاست پاکستان اپنے فرض کی ادائیگی میں حق پر ہے لہذا اس کا ساتھ دیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *