
عقلِ سلیم
وطن کی سلامتی کے محافظ — اُن شہیدوں کے نام جن کے لہو سے پاکستان محفوظ ہے
تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی
پاکستان محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں، یہ لاکھوں قربانیوں، بے شمار دعاؤں، لازوال جدوجہد اور شہیدوں کے لہو سے سینچا ہوا ایک وطن ہے۔ اس سرزمین کی مٹی میں اُن لوگوں کی قربانیوں کی خوشبو شامل ہے جنہوں نے اپنے آج کو ہمارے کل پر قربان کر دیا، جنہوں نے اپنے بچوں کی مسکراہٹوں، اپنے والدین کی دعاؤں اور اپنے گھر کی محبتوں کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھا۔
آج کا یہ کالم اُن تمام اداروں، اہلکاروں، جوانوں اور فوجی شہداء کے نام ہے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ یہ خراجِ تحسین اُن ماؤں کے نام بھی ہے جنہوں نے اپنے جگر گوشے وطن پر قربان کیے، اُن بہنوں کے نام جن کے بھائی واپس نہ آئے، اُن بچوں کے نام جن کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، اور اُن خاندانوں کے نام جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کو وطن کی محبت میں برداشت کیا۔
پاکستان کی حفاظت، ایک مقدس ذمہ داری
کسی بھی ملک کی سلامتی صرف اس کی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہوتی۔ حقیقی سلامتی میں عوام کا تحفظ، امن و امان، قانون کی بالادستی، قومی خودمختاری اور اداروں پر عوام کا اعتماد بھی شامل ہوتا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کور، انٹیلی جنس ادارے، سکیورٹی اہلکار، ریسکیو سروسز اور دیگر متعلقہ اداروں سے وابستہ بہت سے لوگوں نے مختلف ادوار میں ملک و قوم کے تحفظ کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ کہیں سرحدوں پر دشمن کے مقابلے میں جانیں پیش کی گئیں، کہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جوان شہید ہوئے، کہیں پولیس اہلکاروں نے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی زندگی قربان کر دی، اور کہیں امدادی کارکنوں نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔
یہ تمام قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن ایک قیمتی نعمت ہے، جس کی حفاظت کے لیے بہت سے لوگ خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
آرمی پبلک اسکول کے ننھے شہداء — معصوم پھولوں کی لازوال قربانی
ہم اُن ننھے منے بچوں کو کیسے بھول سکتے ہیں جو 16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کے ایک المناک واقعے میں شہید ہوئے؟ وہ بچے اپنے بستوں میں کتابیں، آنکھوں میں خواب اور دلوں میں پاکستان کا روشن مستقبل لیے اسکول گئے تھے، مگر دہشت گردی نے اُن معصوم کلیوں کو ہم سے چھین لیا۔ اُن میں طلبہ کے ساتھ اساتذہ اور اسکول کا عملہ بھی شامل تھا، جنہوں نے اپنے فرائض اور بچوں کی حفاظت کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اُن شہداء میں ننھے طالب علم شاہدہ کا ذکر بھی ہمارے دلوں کو غمگین کر دیتا ہے۔ شاہدہ سمیت آرمی پبلک اسکول کے تمام معصوم شہداء قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اُن کی شہادت نے پوری قوم کو متحد کیا اور یہ عہد دیا کہ پاکستان سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے گا۔
ہر سال 16 دسمبر کو اُن شہداء کا یومِ شہادت منایا جاتا ہے۔ اس دن اسکولوں، تعلیمی اداروں اور مختلف مقامات پر اُن کی یاد میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کی جاتی ہے، اور اُن کے والدین، اساتذہ اور خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے بچوں کی تعلیم، امن اور مستقبل کے لیے کتنی بڑی قربانی دی گئی ہے۔
اے اللہ! آرمی پبلک اسکول کے تمام شہید طلبہ، شاہدہ، اساتذہ اور عملے کی کامل مغفرت فرما، اُن کے درجات بلند فرما اور اُن کے والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ آمین۔
شہید صرف ایک نام نہیں، ایک پوری داستان ہوتا ہے
ذرا تصور کیجیے اُس گھر کا جہاں ایک ماں اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظر ہو، مگر دروازے پر دستک کے بجائے شہادت کی خبر پہنچ جائے۔ اُس بچے کا تصور کیجیے جو اپنے والد کی وردی دیکھ کر خوش ہوتا تھا، لیکن ایک دن وہی وردی اپنے باپ کی آخری نشانی بن جائے۔ اُس بیوہ کے دکھ کو محسوس کیجیے جس کی زندگی کا ساتھی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے واپس نہ آ سکا۔
شہادت کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اُن خاندانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود حوصلے سے زندگی گزارتے ہیں۔ قوم کا فرض صرف شہداء کے جنازوں میں شرکت یا قومی دنوں پر تقاریر کرنا نہیں، بلکہ اُن کے خاندانوں کی عزت، کفالت، تعلیم اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُن کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے، اُن کے والدین کی ضروریات پوری کرنے اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔
اداروں کا احترام، قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی
ایک مضبوط پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے قومی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔ اداروں کی عزت اُن کے نام سے ضرور وابستہ ہوتی ہے، لیکن اس عزت کو مضبوط بنانے میں اُن کے اہلکاروں کا کردار، قربانی، نظم و ضبط اور عوام کے ساتھ انصاف پر مبنی رویہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ہمیں اُن اہلکاروں کی خدمات کو سراہنا چاہیے جو مشکل حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ذاتی مفادات پر قومی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی طرح جہاں کسی ادارے یا اہلکار سے غلطی ہو، وہاں قانون کے مطابق شفاف احتساب بھی ضروری ہے۔ احتساب اداروں کو کمزور کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اُن پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔
یاد رکھیے! قومی اداروں کا احترام اور اُن کی اصلاح ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک ذمہ دار قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو تسلیم بھی کرتی ہے اور اپنے اداروں سے قانون، دیانت داری اور انصاف کی توقع بھی رکھتی ہے۔
پاکستان کو آج ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جو اختلافات کے باوجود قوم کو تقسیم نہ ہونے دے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وطن کی سلامتی صرف وردی پہننے والوں کی ذمہ داری نہیں؛ شہریوں کا فرض بھی ہے کہ قانون کی پاسداری کریں، نفرت اور انتشار سے بچیں، افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں اور ملک کے مفاد کو ذاتی اختلافات پر ترجیح دیں۔
ہماری آزادی، کسی کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے
آج ہم اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھتے ہیں، اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، بازاروں میں خریداری کرتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امن کے قیام اور اس کے تحفظ کے لیے کتنے لوگ اپنی نیند، اپنے خاندان اور کبھی اپنی جان تک قربان کرتے ہیں۔
ہمارے محافظ بھی انسان ہیں۔ اُن کے بھی خواب ہوتے ہیں، اُن کے بھی بچے ہوتے ہیں، اُن کے والدین بھی اُن کی راہ دیکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران کئی مرتبہ اپنی ذاتی خواہشات سے بڑھ کر اجتماعی سلامتی کو اہمیت دیتے ہیں۔
ہمیں اُن تمام افراد کے لیے دعا کرنی چاہیے جو آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان، سرحدوں کی حفاظت اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے، اُن کے حوصلوں کو مضبوط کرے اور اُن کے اہلِ خانہ کو سکون و عافیت عطا فرمائے۔
شہداء کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت
آئیے، آج ہم اپنے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور دعا کریں:
اے اللہ! پاکستان کی حفاظت، امن و سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء، بالخصوص آرمی پبلک اسکول کے ننھے شہداء، شاہدہ، اُن کے ساتھی طلبہ، اساتذہ اور عملے کی کامل مغفرت فرما۔ اُن کی لغزشوں سے درگزر فرما، اُن کے درجات بلند فرما اور اُنہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
یا اللہ! اُن تمام ماؤں، باپوں، بہنوں، بھائیوں، بیواؤں اور بچوں کو صبرِ جمیل عطا فرما جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن کی حفاظت کے لیے قربان کیا۔ اُن کے دلوں کو سکون دے، اُن کی مشکلات آسان فرما اور اُن کے خاندانوں کو عزت، تحفظ اور خوش حالی عطا فرما۔
اے پروردگار! پاکستان کی سرحدوں، شہروں، دیہاتوں اور ہر بستی کو امن کا گہوارہ بنا۔ ہمارے ملک کو دہشت گردی، بدامنی، ناانصافی، کرپشن اور انتشار سے محفوظ فرما۔ ہمارے اداروں کو دیانت داری، عدل، امانت اور عوامی خدمت کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے محافظوں کی حفاظت فرما اور پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ۔
یا اللہ! ہمیں ایسا پاکستانی بنا جو اپنے وطن سے محبت کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھے، بلکہ اپنے کردار، دیانت، محنت، قانون کی پاسداری اور انسانیت کی خدمت سے اس محبت کا ثبوت دے۔ آمین یا رب العالمین۔
آخری گزارش
میرے عزیز ہم وطنو!
وطن سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم صرف قومی پرچم لہرائیں، تقریریں کریں یا شہداء کی تصاویر پر پھول نچھاور کریں۔ اصل محبت یہ ہے کہ ہم اُن قربانیوں کی قدر کریں، اُن کے خاندانوں کا سہارا بنیں، اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں اور اپنے وطن کو امن، انصاف اور اتحاد کا مرکز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آج ہم اپنے تمام شہداء، بالخصوص آرمی پبلک اسکول کے ننھے شہداء اور شاہدہ کو سلام پیش کرتے ہیں، اپنے محافظوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور اُن تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
پاکستان زندہ باد!
پاک سرزمین ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو امن، اتحاد اور خوش حالی عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی
عقلِ سلیم — ایک فکر، ایک شعور، ایک پیغام