


*سائبر بلیک میلنگ، تشدد اور سماجی عدم مساوات: خواتین کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات کا مطالبہ، زرعی یونیورسٹی میں کانفرنس*
ٹنڈو جام (پریس ریلیز) ماہرین تعلیم، سماجی رہنما اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے جمعرات کے روز منعقدہ ایک قومی کانفرنس میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، سائبر بلیک میلنگ، ہراسانی اور گہری جڑوں والی ساختی عدم مساوات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین نے خبردار کیا کہ خواتین سے متعلق قوانین پر کمزور عملدرآمد اور معاشرتی رکاوٹیں پاکستان میں خواتین کی حفاظت اور بااختیاری کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی میزبانی میں، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور سندھ حکومت کے محکمہ ترقیِ نسواں کے تعاون سے “تعلیم و معاشرے میں خواتین کی حفاظت، حقوق اور بااختیاری کے فروغ” کے موضوع پر قومی کانفرنس برائے تحفظِ خواتین 2026 منعقد کی گئی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ خواتین معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک خواتین محفوظ، تعلیم یافتہ، باعزت اور بااختیار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تدریس، ادارہ جاتی نظام اور خاندانی وراثت میں خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازی کے باوجود خواتین کو ہراسانی، گھریلو تشدد، ملازمتوں میں امتیاز، سائبر کرائم، جبری شادیوں اور مواقع کی عدم مساوات جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے لیے مربوط ادارہ جاتی اقدامات ناگزیر ہیں۔سماجی رہنما ماروی اعوان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کی شکایات کے معاملات کو ذمہ داری سے نمٹانا چاہیے اور سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے گریز ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط طریقہ کار سے نہ صرف ادارے متاثر ہوتے ہیں بلکہ دیگر طالبات اور ان کے خاندان بھی متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے ڈیجیٹل اخلاقیات سے آگاہی ناگزیر ہے۔چیئرمین اسٹوڈنٹس ٹیچرز انگیجمنٹ پروگرام ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر نے کہا کہ ملک کی تقریباً 34 فیصد خواتین گھریلو یا دیگر اقسام کے تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 54 فیصد متاثرہ خواتین شکایت درج نہیں کراتیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 18 ہزار سے زائد خواتین سائبر ہراسانی اور بلیک میلنگ کا شکار ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اجرت میں امتیاز کا سامنا ہے جبکہ کم عمری کی شادی ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حیدرآباد کی ثمینہ عباسی نے کہا کہ خواتین کو درپیش رکاوٹیں دراصل مجموعی سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر خواتین کے لیے حقیقی تحفظ کا احساس پیدا کرنا ضروری ہے اور بیٹے اور بیٹی میں امتیاز کے خاتمے پر زور دیا۔سندھ زرعی یونیورسٹی کی ممبر سینیڈیکیٹ ڈاکٹر شبانہ سرتاج تنیو نے کہا کہ خواتین کو نہ صرف اداروں بلکہ گھریلو ماحول میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔تقریب کے دوران ڈاکٹر محمودہ برڑو نے کانفرنس کی سفارشات پیش کیں۔ کانفرنس میں ہراسانی سے پاک کیمپسز، مضبوط اینٹی ہراسانی نظام، کونسلنگ اور ذہنی صحت کی سہولیات، اور خاص طور پر دیہی علاقوں کی طالبات کے لیے اسکالرشپس میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔اس کے علاوہ دیہی خواتین کے زرعی معیشت میں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے زمین کی ملکیت، زرعی قرضوں، آبپاشی، جدید ٹیکنالوجی اور توسیعی خدمات تک مساوی رسائی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ضلعی اور تحصیل سطح پر خواتین کے لیے زرعی معاون نظام کے قیام کی سفارش کی گئی۔اس موقع پر ڈاکٹر فیروزہ سومرو نے شاعری پیش کی جبکہ ڈاکٹر غلام حسین وگن نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وائی پیش کی۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین، سماجی رہنما، اساتذہ، طلبہ اور شرکاء بشمول بی بی یاسمین، ریشمہ تھیبو اور رادھا بھیل نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔
