





مرکزی مسلم لیگ کا مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان 11جون کراچی، 14 جون کو حیدرچوک حیدرآباد پر دھرنے کا اعلان کردیا۔
حیدرآباد: صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ فیصل ندیم نے حیدرآباد میں مرکزی مسلم لیگ ھائوس لطیف آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ آتے ہی عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کے نام پر مسلسل عوام دشمن فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے بجائے مزید مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔
فیصل ندیم نے مطالبہ کیا کہ سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو بھی مہنگائی میں اضافے کا جواز بنا کر عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ مہنگائی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی مسائل کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں 14 جون کو حیدرآباد اور 17 جون کو سکھر میں بڑے دھرنے دیے جائیں گے۔
صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ پندرہ سال سے سندھ پر مسلط ہے لیکن عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سڑک بنا کر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بہت کام کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
فیصل ندیم نے بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں گلگت بلتستان کو سندھ جیسا بنانے کی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دراصل گلگت بلتستان کو بھی بدحالی اور محرومی کی طرف دھکیلنے کی دھمکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو حکومت کا ہر سطح پر گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے حصول تک اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے گی اور مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی استحصال کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد ڈویژن کے صدر انجینئر نعمان علی مرکزی مسلم لیگ کے صوبائی ڈویژنل عہدیداران بھی شریک تھے