
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
معرکہ حق میں بھارتی ذلت اور پاکستانی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں نام “نہاد بلوچستان لبریشن آرمی” عُرف فتنہ الہندوستان کی افغانی سپورٹرز سمیت دُرگت کے بعد مکّار دُشمن اور پاکستان میں اُس کے گماشتے گھبرا چُکے ہیں۔ کشمیر میں حالیہ تشّدد کی حالیہ لہر اُن کا نیا پراجیکٹ اور ایک گہری سازش ہے جس کے بارے میں پاکستانی عوام کو بالعموم اور کشمیریوں کا بالخصوص جاننا انتہائی ضروری ہے۔ گذشتہ سال بھی اس کمیٹی نے احتجاجی پروگرام ترتیب دیا اور شروع میں 5اور پھر بڑھاتے بڑھاتے اپنا ایجنڈا 38 مطالبات تک پھیلا دیا۔ ویسے تو اس پارٹی کا تاریخی پسِ منظر یہ بتاتا ہے کہ یہ کمیٹی سن 2004ء سے پاکستان اور مرکزی حکومتوں کے خلاف کشمیریوں کے حقوق کے نام پر مختلف احتجاجی جلسے اور ریلیاں منعقد کرتی چلی آرہی ہے۔ سن 2004ء اس لیئے اہم ہے کہ مشرف دور میں نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان اور عراق پر اپنا قبضہ مکمل کرلیا اب اُس کی توپوں کا رُخ پاکستان کی طرف ہوگیا۔ افغانستان کی کٹھ پُتلی حکومت اور بھارت نے ملکر پاکستان کے اندر انتشار پھیلانے کے منصوبوں پر اسی دور میں کام کرنا شروع کیا۔
گذشتہ سال کی کمیٹی کے احتجاج کے بعد 38 مطالبات میں سے صرف ایک مطالبہ ایسا تھا جسے حکومت پاکستان نے نہیں مانا اور اُس کی بھی معقول وجہ ہے۔ آئین پاکستان اور کشمیر کے دستور کے مطابق پاکستان کے مُختلف شہروں میں بسنے والے کشمیری مہاجرین کے لیئے کشمیر اسمبلی میں جو 12 سیٹیں مُختص ہیں ان کو کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ ختم کیا جائے۔ ایک قانون سازی کے تحت عمل درآمد ہونے والے ایک ایکٹ کواحتجاج سے کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ مرکزی حکومت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے گئی۔ 6جون کو عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کیا اور7 جون کو سُنایا۔ اس فیصلے کے مطابق عدالت نے فیصلہ سُنایا کہ مستقبل قریب میں معرض وجود میں آنے والی کشمیر کی دستور ساز اسمبلی اس پر قانون سازی کرے۔ کشمیر اسمبلی کے نمائیندوں نے اکثریت سے کمیٹی کا یہ مطالبہ مُسترد کرتے ہوئے کمیٹی کو ہی کالعدم قرار دے دیا۔ کشمیری عوام اور ان کے نمائیندوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے مُستقبل کے بارے فیصلہ کریں لیکن ایک مخصوص گروہ کو گن پوائنٹ پر اپنا ایجنڈا منوانے کا کوئی حق نہیں۔
پچھلے سال کی احتجاجی تحریک میں سیکیورٹی کے اداروں کے علم میں یہ بات آئی کہ اس کمیٹی کی قیادت کے ڈانڈے بھارتی خُفیہ ایجنسی را سے ملتے ہیں اور یہ اُس کے ایجنڈے پر چل رہی ہے۔ اس سال 9 جون کو جو کشمیر بھر کمیٹی نے احتجاج کی کال دے رکھی تھی اس کو روکنے کے لیئے حکومت اقدامات کررہی تھی کہ کھائی گالہ میں کمیٹی کے ایک اوّلین بانیوں اور کشمیر کمیٹی کی “کور کمیٹی” کے ممبر “عمر نذیر” کی گاڑی پر پولیس کی جانب سے ایک فائرنگ کا واقعہ رپورٹ ہوا جس میں ابتداء میں شور مچایا گیا کہ اسے اداروں نے مارا ڈلا ہے۔ تھوڑی دیر رُوپوش رہنے کے بعد “عمر نذیر” منظر عام پر آگیا جس کو پٹیاں لگی ہوئی تھیں اور پتا چلا کہ اُس کا ایک غیر معروف ساتھی “شاہ زیب” مارا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر کے کہ کمیٹی کے دو سرکردہ رہنماؤں کی ایک آڈیو کال لیک ہوئی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ “عمر نذیر” کے ساتھیوں کی جانب سے پولیس پر پہلے فائرنگ کی گئی پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔ “شاہ زیب” کی لاش کو راولا کوٹ سی ایم ایچ کے سامنے رکھ کر کمیٹی نے احتجاج شروع کیا۔
ان احتجاجیوں میں جدید اسلحہ سے لیس کُچھ لوگوں کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ کسی اور ہی ایجنڈے کے لیئے آئے تھے۔ سی ایم ایچ کے سامنے جب 7/8 جون کو اس احتجاج کو سیکیورٹی اداروں نے روکنے کی کوشش کی تو احتجاجی گروہ میں شامل کُچھ لوگوں نے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کرکے ایک انسپکٹر سمیت تین پولیس اہلکاروں اور ایک رینجر اہلکار کو شہید کردیا۔ پھر اچانک راتوں رات سوشل میڈیا پر سینکڑوں اکاؤنٹس ایکٹیو ہوگئے، ان اکاؤنٹس میں پی ٹی آئی ورکرز سمیت، بھارت، افغانستان سے آپریٹ ہونے والے کُچھ اکاؤنٹس نے سیکیورٹی کے اداروں کے خلاف بڑے منظم طریقے سے پراپیگنڈا شروع کردیا۔ ایسے موقعہ پر ہی “نالے چور نالے چتر” یعنی جس کا قصور ہے وہی اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہا ہے۔ کیا یہ اخلاقی بدیانتی پر ریاست آنکھیں بند کرلے؟ ڈیوٹی پر مامور ان سیکیورٹی اہلکاروں کا کیا قصور تھا؟ ریاست نے پھر وہی کیا جو ریاست کو کرنا چاہیئے تھا لیکن اب اس کو دوسرا رنگ دیا جارہا ہے۔
اب کمیٹی کا یہ احتجاج اور اس کے پیچھے چُھپا ہوا ایجنڈا مکمل طور پر ننگا ہورہا ہے جس سے برآمد یہ ہوا ہے کہ “ریاستِ پاکستان” جبر سے کشمیریوں کے حقوق کو دبا رہی ہے جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی بیانیہ ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے آپریشن میں مصدقہ اطلاعات کے مطابق 20سے 25احتجاجی مارے گئے ہیں اور لگ بھگ اتنے یا اس سے کُچھ زیادہ زخمی ہیں۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ چرچا کیا جارہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے آپریشن میں کئی سو لوگ مارے گئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دکھایا جارہا ہے کہ کشمیر میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جو جھوٹ کی ایک انتہاء ہے۔ راتوں رات سینکڑوں بننے والے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اب “قابض فوج”، “کشمیری پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں”، “کشمیری پاکستان سے بدلہ لیں گے” جیسے درجنوں نعرے لگائے جارہے ہیں۔ اب بلی تھیلے سے باہر آرہی ہے۔ پی ٹی آئی کے عام ورکرز اور پی ٹی آئی کے بیرون مُلک مقیم معروف بھگوڑے پراپیگنڈا مشینیں، بی ایل اے، افغانی ایجنٹس اور بھارتی ایجنٹس پورا کشمیر جلتے ہوئے بتارہے ہیں ۔
کشمیر کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر (میر پور) اور خواجہ مہران (مظفر آباد) کی سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کال وائرل ہے جس میں دونوں رہنماء اس احتجاج نام کے فساد اور قتل و غارت کو میر پور، کوٹلی اور مظفرآباد تک پھیلانے کا منصوبہ ڈسکس کرتے ہوئے پائے گئے۔ اسی طرح مزید دو رہنماؤں کی ایک آڈیو کال لیک ہوئی ہے جس کے مطابق احتجاج اور قتل و غارت کی آگ کو پورے کشمیر میں پھیلانے کا پروگرام ڈسکس کرتے سُنائی دیتے ہیں۔ اس سارے کھیل کا مقصد کیاہے؟ اس کے پیچھے کون ہوسکتا ہے؟ ان احتجاجیوں کو جدید اسلحہ کون دے رہا ہے؟ ان کی سوشل میڈیا پر حمایت کون کررہا ہے؟ پاکستانی عوام اور کشمیریوں کو ان امن اور ریاست کے دُشمن کرداروں اور اُن کے ایجنڈے کی پہچان ہونی چاہیئے۔ کشمیری عوام دراصل جس کمیٹی کو اپنے حقوق کی رکھوالی سمجھ رہی ہے اُسے کسی تیسری طاقت نے ہائی جیک کررکھا ہے اور اس کے سرکردہ سربراہوں کا ایجنڈا کشمیریوں کی خیر خواہی کی بجائے کُچھ اور ہے۔ ان امن اورطرایست کے دُشمنوں کا سب کو ملکر مقابلہ کرنا ہوگا۔
کشمیر کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر (میر پور) اور خواجہ مہران (مظفر آباد) کی سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کال وائرل ہے جس میں دونوں رہنماء اس احتجاج نام کے فساد اور قتل و غارت کو میر پور، کوٹلی اور مظفرآباد تک پھیلانے کا منصوبہ ڈسکس کرتے ہوئے پائے گئے۔ اسی طرح مزید دو رہنماؤں کی ایک آڈیو کال لیک ہوئی ہے جس کے مطابق احتجاج اور قتل و غارت کی آگ کو پورے کشمیر میں پھیلانے کا پروگرام ڈسکس کرتے سُنائی دیتے ہیں۔ اس سارے کھیل کا مقصد کیاہے؟ اس کے پیچھے کون ہوسکتا ہے؟ ان احتجاجیوں کو جدید اسلحہ کون دے رہا ہے؟ ان کی سوشل میڈیا پر حمایت کون کررہا ہے؟ پاکستانی عوام اور کشمیریوں کو ان امن اور ریاست کے دُشمن کرداروں اور اُن کے ایجنڈے کی پہچان ہونی چاہیئے۔ کشمیری عوام دراصل جس کمیٹی کو اپنے حقوق کی رکھوالی سمجھ رہی ہے اُسے کسی تیسری طاقت نے ہائی جیک کررکھا ہے اور اس کے سرکردہ سربراہوں کا ایجنڈا کشمیریوں کی خیر خواہی کی بجائے کُچھ اور ہے۔ ان امن اورطرایست کے دُشمنوں کا سب کو ملکر مقابلہ کرنا ہوگا۔
جہاں تک پی ٹی آئی کی بات کی جاے تو 9 مئی کے واقعات سے یہ پارٹی اپنا ایجنڈا واضح کرچُکی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور عام ورکرز اور پراپیگنڈا بلاتحقیق ہر اس مہم کا حصہ بن جانے کی طرز پر چل نکلی ہے جو پاکستان اور فوج مخالف ہو۔ اسی طرح فتنہ الہندوستان کی برانچ “بی ایل اے، المجید بریگیڈ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی” کے ایجنڈے کے بارے میں بھی اب قوم کو کوئی شک نہیں رہا۔ واضح رہے اسی تین گروہی اتحاد نے گذشتہ سال گلگت بلتستان میں “سُنی شیعہ فساد” سے کام شروع کرکے فوج اور پاکستان دُشمن بیانیے پر اختتام کیا تھا۔ اسی فوج اور ریاستِ پاکستان مخالف گینگ کو اب “کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی” نے ایک نیا موقعہ اور پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جس سے یہ فوج اور ریاستِ پاکستان کے خلاف اپنا بُغض اُبل رہے ہیں۔ ریاستِ پاکستان کو کسی قسم کی لچک دکھائے بغیر اس کالعدم تنظیم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیئے رتی بھر دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔ پاکستانی اور کشمیری عوام کو اس موقعہ پر شر پسند عناصر کی باتوں میں آنے کی بجائے حُب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے سیکیورٹی اداروں اور ریاست کا ساتھ دینا ہوگا۔