وفاقی بجٹ 2026-27میں مثبت اقدامات خوش آئند ہیں لیکن ایس ایم ایز،کاٹیج انڈسٹری اور چھوٹے تاجروں کے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں

وفاقی بجٹ 2026-27میں مثبت اقدامات خوش آئند ہیں لیکن ایس ایم ایز،کاٹیج انڈسٹری اور چھوٹے تاجروں کے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔
حیدرآباد چیمبر کے عہدیداران کا وفاقی بجٹ پر ردعمل
حیدرآباد ( ) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن، سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان اور نائب صدر شان سہگل نے وفاقی بجٹ 2026-27پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں بعض مثبت معاشی اور ٹیکس اصلاحات شامل کی گئی ہیں جن کا کاروباری برادری خیر مقدم کرتی ہے، تاہم چھوٹے تاجروں، ایس ایم ایز اور چھوٹی صنعتوں کے مسائل کے حل کے لیے مزید ٹھوس اور براہ راست اقدامات کی ضرورت ہے۔صدرچیمبر محمد سلیم میمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت خام مال اور صنعتی ان پٹس پر کسٹمز ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کا اقدام صنعت دوست پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے پیداواری لاگت میں کمی اور مقامی صنعت کی مسابقت میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے پر ٹیکس بوجھ میں کمی، آئی ٹی ایکسپورٹس کے لیے 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی مدت میں 2029 تک توسیع، 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کا خاتمہ اور بڑی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح میں 10 فیصد سے 8 فیصد تک کمی مثبت اقدامات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ کی حد 10 کروڑ روپے سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے کرنا کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ، فیس لیس آڈٹ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، الیکٹرانک انضمام اور ٹیکس نظام کی جدید خطوط پر اصلاحات سے کاروباری ماحول میں شفافیت اور آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں SMEs اور خاص طور پر کاٹیج انڈسٹری کے لیے کوئی واضح یا مخصوص پیکیج شامل نہیں کیا گیا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان کی دیہی اور چھوٹی معیشت کا بڑا حصہ کاٹیج انڈسٹری پر مشتمل ہے جو روزگار، برآمدات اور غربت میں کمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ہماری واضح تجویز ہے کہ BISP کے تحت مختص فنڈز میں سے کم از کم 200 ارب روپے کا خصوصی“کاٹیج انڈسٹری ڈویلپمنٹ فنڈ”قائم کیا جائے، تاکہ چھوٹے ہنر مندوں، گھریلو صنعتوں اور مائیکرو انٹرپرائزز کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ بجٹ میں ایس ایم ایز اور چھوٹی صنعتوں کے لیے کسی جامع قومی پیکیج کا اعلان نہ ہونا ایک اہم کمی ہے۔ پاکستان میں روزگار، مقامی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کا بڑا حصہ ایس ایم ایز سے وابستہ ہے، لیکن ان کے لیے کم شرح سود پر فنانسنگ، صنعتی جدیدکاری، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور برآمدی معاونت کے حوالے سے کوئی مؤثر پروگرام سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم (FTR) کی بحالی کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا تھا لیکن بجٹ میں اس مطالبے کو شامل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ برآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم صنعت کو مطلوبہ سہولت اور یقینی ٹیکس نظام فراہم نہیں کیا جا سکا۔احمد ادریس چوہان نے کہا کہ سندھ خصوصاً حیدرآباد، کوٹری، نوابشاہ، میرپورخاص اور دیگر صنعتی علاقوں کی چھوٹی صنعتوں کو آج بھی مہنگی بجلی، گیس کی محدود دستیابی، بلند پیداواری لاگت اور مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔ بجٹ میں صنعتی توانائی نرخوں میں نمایاں کمی یا خصوصی صنعتی ریلیف پیکیج کا اعلان نہ ہونا باعث تشویش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے ڈیجیٹل کمپلائنس سسٹمز، پروڈکشن مانیٹرنگ، الیکٹرانک انٹیگریشن اور نگرانی کے نظاموں کے ساتھ کاروباری سہولت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے اس کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ایکسپورٹ پر مبنی ایس ایم ایز کے ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، کم شرح سود پر فنانسنگ، خصوصی صنعتی ٹیرف اور ٹیکس نظام میں مزید آسانیاں متعارف کرائے۔نائب صدر شان سہگل نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت، کیش لیس لین دین، آئی ٹی برآمدات اور دستاویزی نظام کے فروغ کے لیے بجٹ میں شامل اقدامات مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔ ایف بی آر کے ساتھ ڈیجیٹل انضمام پر ٹیکس کریڈٹ اور آئی ٹی شعبے کے لیے رعایتی ٹیکس کی توسیع نوجوان کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مجوزہ فکسڈ ٹیکس نظام چھوٹے تاجروں کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس میں کاروبار کے حجم، ٹرن اوور اور منافع کے مطابق واضح درجہ بندی موجود نہیں۔ ایک ہی طرز کا ٹیکس نظام چھوٹے اور کم آمدنی والے تاجروں پر غیر منصفانہ بوجھ ڈال سکتا ہے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت اور کم منافع کے دباؤ میں ہیں۔ مناسب درجہ بندی کے بغیر یہ نظام ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے چھوٹے کاروباروں کو مزید مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ حیدرآباد چیمبر کے عہدیداران نے امید ظاہر کی کہ حکومت مالی سال کے دوران کاروباری برادری، FPCCI، چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس ایم ایز، چھوٹے تاجروں اور چھوٹی صنعتوں کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گی تاکہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *