حیدرآباد میں ایک سماجی تنظیم کی جانب سے بچوں سے مزدوری کروانے کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے بچوں کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد میں ایک سماجی تنظیم کی جانب سے بچوں سے مزدوری کروانے کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے بچوں کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) کی جانب سے ٹنڈو حیدر کے قریب ہمت آباد میں ‘ورلڈ ڈے اگینسٹ چائلڈ لیبر’ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں بچوں نے چائلڈ لیبر کے خلاف مختلف اصلاحی ٹیبلوز، اسٹیج ڈرامے، کلام پیش کیے اور مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔تقریب میں اسپارک کے رہنماؤں کاشف بجیر، واجد جاگیرانی، شوکت سریوال، سحرالنساء اور دیگر نے شرکت کی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اینٹوں کے بھٹوں پر کئی خاندان غربت اور قرضوں میں پھنس چکے ہیں۔ اسپارک کے مطابق، یہ معاشی دباؤ جبری چائلڈ لیبر کی بڑی وجہ ہے، جہاں خاندان اپنے بچوں کو بھی خطرناک کاموں میں شامل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال بچوں کو تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے اور مزدوروں میں ذہنی دباؤ اور مایوسی پیدا کر رہی ہے، جو مستقبل میں سنگین ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ بھٹوں کے قریب سرکاری اسکولوں اور بالغوں کے تعلیمی مراکز کا قیام اور بچوں سے مزدوری کا خاتمہ ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مفت اور معیاری تعلیم تک رسائی، بچوں کے تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد اور خاندانوں کے لیے فوری معاشی معاونت کو یقینی بنائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ان اصلاحی تھیٹرز اور ٹیبلوز کے ذریعے بھٹہ مزدوروں کو ان کے حقوق، جبری مشقت کے خطرات اور بچوں کی تعلیم کی اہمیت کے بارے میں آگاہی دی جا رہی ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *