پولیس کا وقار انصاف کی ذمہ داری اور احتساب کی ضرورت

عقلِ سلیم
پولیس کا وقار انصاف کی ذمہ داری اور احتساب کی ضرورت
تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی
پنجاب پولیس کو ہمیشہ “فخرِ پنجاب” کہا جاتا ہے۔ اس ادارے میں ہزاروں ایسے ایماندار، فرض شناس اور بہادر افسران و اہلکار موجود ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے عوام کے جان و مال کا تحفظ کرتے ہیں۔ انہی کی قربانیوں کی بدولت پولیس پر عوام کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی ادارے میں چند ایسے عناصر موجود ہوں جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں تو ان کی وجہ سے پورا ادارہ تنقید کی زد میں آ جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے اس مسئلے کی نشاندہی کی کہ بعض مقامات پر ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرانے یا متنازع مقدمات کو دوبارہ زندہ کرکے، یا ملتے جلتے ناموں کی بنیاد پر، لوگوں کو مشکلات میں ڈالا جاتا ہے۔ بعض ارکان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ کچھ افراد کو ناجائز دباؤ، رشوت یا دیگر غیر قانونی ذرائع سے ہراساں کیے جانے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ یہ معاملات اگر درست ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچ سامنے آئے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض اہلکار انعامات، کارکردگی کے نمبروں یا ترقی کے حصول کی دوڑ میں ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے اصل مجرموں کے بجائے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، جبکہ کئی حقیقی مقدمات التوا کا شکار رہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ پنجاب پولیس کی مجموعی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے بھی اس معاملے پر توجہ دیتے ہوئے قانون کی بالادستی، احتیاط اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط اور باوقار پولیس فورس کی پہچان بنتا ہے۔
پولیس قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ادارے کے اندر ایسے عناصر کی نشاندہی کرے جو اپنی ذاتی مفاد پرستی یا غیر قانونی سرگرمیوں سے محکمہ کی نیک نامی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ احتساب صرف عوام کے لیے نہیں بلکہ ہر ادارے کے اندر بھی ہونا چاہیے۔ جو اہلکار دیانت داری سے خدمت کر رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، جبکہ قانون سے انحراف کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت اور اختیار ایک امانت ہیں۔ ہر عہدہ، ہر منصب اور ہر اختیار ایک دن ختم ہو جانا ہے، مگر انسان کے اعمال ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ دنیا کی عدالت سے بچنا ممکن ہو سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ظلم، ناانصافی اور کسی بے گناہ کو تکلیف پہنچانا نہ صرف قانون بلکہ دین و اخلاق کی روح کے بھی خلاف ہے۔
آج ہمارے معاشرے کو نفرت، انتقام اور طاقت کے مظاہرے کی نہیں بلکہ انصاف، دیانت اور خدمت کے جذبے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر سرکاری ملازم، ہر پولیس افسر اور ہر صاحبِ اختیار یہ سوچ لے کہ اسے ایک دن اپنے ہر فیصلے کا جواب دینا ہے، تو یقیناً بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
میری پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے ادارے کے وقار کو مزید بلند کرنے کے لیے احتساب کے نظام کو مضبوط بنائیں، عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنیں، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جو پوری فورس کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ عوام اور پولیس ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ جب قانون انصاف کے ساتھ نافذ ہوگا، اختیارات دیانت داری سے استعمال ہوں گے اور ہر شہری کو اس کا حق ملے گا، تبھی ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد مزید مستحکم ہوگی۔
— سید سلیم شہزاد جیلانی

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *