قرضوں کے دعوے… مگر غریب اب بھی محروم

عقلِ سلیم

قرضوں کے دعوے… مگر غریب اب بھی محروم!

تحریر: سید سلیم شہزاد جیلانی

پاکستان میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے نت نئی قرضہ اسکیموں کے اعلانات کیے جاتے ہیں، تو دوسری طرف عام آدمی بینکوں کے دروازوں پر دھکے کھانے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔ یہی تضاد آج کے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ بنتا جا رہا ہے۔

آئے روز سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے بیانات اور ویڈیوز سامنے آتی ہیں جن میں نوجوانوں، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کی بات کی جاتی ہے۔ بعض مواقع پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے عوام کو سہولت فراہم نہ کریں تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان اعلانات سے یقیناً امید پیدا ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ امید عملی حقیقت بھی بنتی ہے؟

گزشتہ چند برسوں کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضے، گھروں کی تعمیر، زرعی شعبے اور چھوٹے کاروبار کے فروغ کے لیے مختلف اسکیموں کا اعلان کیا گیا۔ ان اسکیموں کا مقصد معیشت کو مضبوط کرنا اور بے روزگار نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا بتایا گیا۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ایک عام شہری ان سہولتوں تک آسانی سے نہیں پہنچ پاتا۔

یہ محض سنی سنائی بات نہیں بلکہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ میں نے فیصل آباد میں مختلف بینکوں سے قرضہ اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مختلف بینکوں نے اپنی پالیسیوں اور متعلقہ سرکاری پروگراموں کے مطابق مختلف شرائط بیان کیں۔ کہیں رجسٹری، کہیں مالی حیثیت، کہیں مستقل آمدنی، تو کہیں دیگر دستاویزات کا تقاضا سامنے آیا۔ ان شرائط کو پورا کرنا ایک متوسط یا غریب آدمی کے لیے انتہائی مشکل محسوس ہوتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس پہلے ہی جائیداد، مضبوط آمدنی اور تمام مالی وسائل موجود ہیں تو پھر اسے قرض کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اصل ضرورت تو اس مزدور، رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، دیہاڑی دار اور کم تنخواہ والے ملازم کو ہے جو ہر ماہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

آج بھی بے شمار سرکاری و نجی اداروں میں ملازمین تیس سے پینتیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ موجودہ مہنگائی میں یہ رقم صرف بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ ایسے حالات میں اگر بینک پچاس ہزار یا اس سے زیادہ آمدنی کی شرط رکھیں یا تنخواہ کا بینک کے ذریعے منتقل ہونا لازمی قرار دیں تو پھر لاکھوں محنت کش شہری قرضوں کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو جاتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب عوام حکومتی اعلانات سنتے ہیں تو ان کے دل میں امید پیدا ہوتی ہے، لیکن بینکوں سے واپس آتے وقت وہ مایوسی، بے بسی اور احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر کسی اسکیم سے صرف چند مخصوص طبقات ہی فائدہ اٹھا سکیں تو پھر اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

حکومت کو چاہیے کہ قرضہ اسکیموں کی تشہیر کے ساتھ ساتھ ان کے عملی نتائج بھی عوام کے سامنے رکھے۔ کتنے افراد نے درخواست دی؟ کتنے مستحق افراد کو قرض ملا؟ کتنی درخواستیں مسترد ہوئیں؟ مسترد ہونے کی وجوہات کیا تھیں؟ اگر یہ تمام معلومات شفاف انداز میں سامنے آئیں تو عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور نظام میں موجود خامیوں کی اصلاح بھی ممکن ہوگی۔

یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام مالیاتی ادارے مل بیٹھ کر ایسی پالیسی مرتب کریں جس میں کم آمدنی والے افراد کے لیے الگ شرائط رکھی جائیں۔ چھوٹے قرضوں کے لیے غیر ضروری کاغذی کارروائی کم کی جائے، درخواست دینے کا عمل آسان بنایا جائے اور مستحق افراد کو بلاوجہ بینکوں کے چکر نہ لگوائے جائیں۔

حکومت اگر واقعی غریب عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف تقریروں اور اشتہارات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ عوام کو وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں۔ جب ایک محنت کش باعزت طریقے سے قرض حاصل کر کے اپنا روزگار شروع کرے گا، تب ہی غربت میں حقیقی کمی آئے گی اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔

میں وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، وزیرِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، متعلقہ وزارتوں اور تمام مالیاتی اداروں سے مؤدبانہ اپیل کرتا ہوں کہ قرضہ اسکیموں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر کہیں عملدرآمد میں رکاوٹیں موجود ہیں تو انہیں فوری دور کیا جائے، تاکہ حکومتی اعلانات صرف خبروں اور سوشل میڈیا تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا فائدہ واقعی اس غریب پاکستانی تک پہنچے جو آج بھی ایک بہتر مستقبل کی امید میں زندہ ہے۔

آخر میں صرف ایک سوال…

کیا حکومتی قرضہ اسکیمیں واقعی غریب کے لیے ہیں، یا صرف ان لوگوں کے لیے جو پہلے ہی مالی طور پر مضبوط ہیں؟

یہ سوال صرف میرا نہیں، بلکہ ہر اس پاکستانی کا ہے جو آج بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے کسی آسان راستے کا منتظر ہے۔

— سید سلیم شہزاد جیلانی

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *