
اسلام آباد:( محمد حسین سومرو) بحیرہ عرب اور بحر ہند میں بین الاقوامی تجارتی شاہراہوں، بالخصوص آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پاکستانی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیش نظر پاک بحریہ مکمل طور پر متحرک ہو گئی ہے۔ سمندری حدود کے تحفظ اور قومی تجارتی بحری جہازوں کی باحفاظت آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن “محافظ البحر” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاک بحریہ نے اپنے جدید جنگی جہازوں کو بحر ہند اور آبنائے ہرمز کے گرد و پیش میں تعینات کر دیا ہے تاکہ ہر قسم کی پیش رفت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
فوری جواب کا اختیار: تعینات تمام بحری جہازوں کو کسی بھی سمندری قزاقی، حوثی باغیوں کی مداخلت یا غیر قانونی کارروائی کا فوری اور موثر جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاک بحریہ کا بنیادی ہدف پاکستان کی سمندری حدود کو محفوظ بنانا اور بین الاقوامی پانیوں سے گزرنے والے قومی بحری جہازوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایرانی وزیر داخلہ کے حالیہ دورے کے فوراً بعد پاکستان کی جانب سے دی جانے والی واضح ہدایات اس بات کا اشارہ ہیں کہ دفاعی سطح پر تمام تیاری مکمل ہے۔
اگر خطے میں حوثی باغیوں کی جانب سے پاکستان کی سمندری تجارت میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے یا خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تو پاک بحریہ، سعودی فضائیہ اور دیگر اتحادی افواج کے ہمراہ ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت سخت اور موثر جواب دیا جا سکتا ہے تاکہ تجارتی راستوں کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔