
حیدرآباد ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی کی زیر صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس پولیو کا ایک اجلاس آج ڈویڑنل کمشنر سیکریٹریٹ حیدرآباد میں منعقد ہوا،جس میں 20 اگست سے 31 اگست2026 تک جاری رہنے والی پولیو بوسٹر ڈوز مہم کے انتظامات، سیکیورٹی، تیاریوں اور ممکنہ چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرٹو مہوش برڑو، ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین، سی ڈی سی این اسٹاف آفیسر ڈاکٹر لبنیٰ، پولیس افسران، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ ڈویژن کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے کہا کہ پولیو بوسٹر ڈوز 6 ماہ سے 10 سال تک کے بچوں کو لگانے کا مقصد بچوں میں پولیو کے خلاف قوتِ مدافعت مزید مضبوط کرنا ہے ، انسداد پولیو کے قطرے پانچ سال تک کے بچوں کو منہ کے ذریعے پلائے جاتے ہیں جبکہ بوسٹر ڈوزکی ویکسینیشن جیٹ انجیکٹر کے ذریعے دی جاتی ہے- انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل طور پر آن بورڈ رکھنے اور مہم کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کو مثبت انداز میں حل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ کچھ والدین یا اداروں کی جانب سے انکاری کیس سامنے آ سکتے ہیں اس لیے مو¿ثر آگاہی اور رابطہ کاری کے ذریعے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا واقعے سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔ کمشنر نے حساس اضلاع میں تعلقہ سطح پر فوکل پرسنز مقرر کرکے مہم کی نگرانی اور ڈویژنل سیکریٹریٹ تک بروقت رپورٹنگ کی بھی ہدایت کی۔کمشنر نے حیدرآباد میں نجی اسکولوں کو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے باضابطہ خطوط ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ مہم کے حوالے سے موجود کسی بھی ابہام یا خدشے کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں آگاہی مہم، تربیتی سیشنز، سیمینارز اور کمیونٹی و میڈیا کے ذریعے شعور اجاگر کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے۔ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈویژن میں ماحولیاتی سیمپلز کے حوالے سے صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حیدرآبادمیں گزشتہ 4 ماہ سے ماحولیاتی نمونے منفی آرہے ہیں، تاہم سجاول میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مثبت ماحولیاتی سیمپلز کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ڈویژن کی 501 یونین کونسلز میں سے 119 یونین کونسلز میں بوسٹر ڈوز مہم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ڈبلیو ایچ او حکام نے بتایا کہ مہم کے لیے 2,359 رکنی ہیومن ریسورس تیار ہے اور ڈویژن میں ریڈینس میٹنگز مکمل کی جاچکی ہیں۔ ممکنہ رکاوٹوں، انکاری خاندانوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں بالخصوص دادو اور جامشورو اضلاع کے بعض علاقوںکے لیے متبادل حکمتِ عملی تشکیل دی جارہی ہے۔ مہم کے دوران ضروری آلات، جیٹ انجیکٹرز اور بفرز کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اس موقع پرایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہم کے لیے پولیس کی مکمل معاونت حاصل ہوگی اور تقریباً 2,600 پولیس اہلکار سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے جاسکتے ہیں، جن میں لیڈی پولیس اہلکار بھی شامل ہوں گی۔ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین نے بتایا کہ حیدرآباد کی 70 یونین کونسلز میں مہم کے حوالے سے مجموعی تیاریاں مکمل ہیں۔ کچھ اسکولز میں تحفظات سامنے آئے ہیں تاہم ان اداروں میں آگاہی سیشنز منعقد کرکے خدشات دور کیے جارہے ہیں اور مہم کی کامیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز جامشورو، دادو، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری اور بدین نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی اور اپنے اضلاع میں بوسٹر ڈوز مہم کی تیاریوں، سیکیورٹی انتظامات اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا اور مہم کے کامیاب انعقاد کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔