
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
دیگرممالک کے لیئے دُنیاتو دو تین دہائیاں پہلے "گلوبل ویلیج" بنی لیکن پاکستان قیام سے ہی اپنے نظریات کی بنا پر بین الاقوامی سیاست اورجنگوں کا مرکزی کردار رہاہے۔ آغاز میں کمزور معاشی ڈھانچہ، بین الاقوامی سیاست اور جنگوں میں مسلسل شرکت اور سب سے بڑھ کر اندرونی سطح پر معیشت کی طرف کم توجہ کی وجہ سے پاکستان پر ایک عرصہ تک (FATF) فنانشل ایکشن ٹاسک لسٹ میں شامل ہونے کی تلوار لٹکتی رہی ہے۔ جس وقت موجودہ حکومت نے مُلک کی بھاگ دوڑ سنبھالی اس وقت پاکستان "معاشی ڈیفالٹ" کے کنارے پرکھڑا تھا۔ فیلڈمارشل سیؔدعاصم مُنیر نے ایک عام آرمی چیف کے کردار سے ہٹ کر پاکستانی معیشت کو پٹری پر ڈالنے کے لیئے نہ صرف پاکستانی بزنس کمیونٹی سے خطاب کیا بلکہ انہیں پاکستان میں انویسٹمنٹ پر مکمل سکیورٹی مہیا کرنے کی گارنٹی بھی دی۔ اسی طرح انہوں کئی غیرممالک کے دوروں کے دوران مختلف ممالک کے سربراہاں سے مُلاقاتوں میں ہر وہ ممکن کوشش کی کہ جس سے پاکستانی کی معیشت کو بہتر بنایا جاسکے۔
انٹرنیشنل یا نیشنل آرڈ میں گورننس، معیشت اور سماجی نظام شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں گورننس سسٹم بہتر بنانے کے لیئے مزید صوبوں کی بات چھیڑنے پر ایک بڑی ہلچل مچ چُکی ہے۔ دراصل پاکستان دُشمن بین الاقوامی قوتیں اور پاکستانی مُفاد پرست عناصر یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی اصلاحات ہوں کیونکہ Status Quo سے ہی اُن کا مُفاد وابستہ ہے۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک "اسلامی نظریاتی فلاحی مملکت" بنانےکے لیئے پاکستان کے گورننس سسٹم کے ساتھ ساتھ سماجی (تہذیبی) اور معاشی سسٹم میں بڑی بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان آج یہ نہیں کرتا تو "خاکِ بدہن" پاکستان کا مُستقبل کوئی تابناک نظر نہیں آتا۔ گورننس سسٹم مزید صوبوں سے بہتر ہوسکتا ہے اور سماجی نظام کوتعلیم و تربیت اور ذرائع ابلاغ کے بھرپوراستعمال سے ہی بہتر کیا جاسکتا ہے۔ وسائل کے بہتر اور فُول پروف استعمال، بہتر بجٹنگ، غیر ضروری، غیر ترقیاتی اخراجات پر کنٹرول اور کرپشن پرکریک ڈاؤن جیسی اصلاحات سے ہی معاشی نظام کو ٹھیک کیا جاسکتا۔
معرکہ حق میں بھارتی ناک خاک آلود کرنے کے بعد اب ہر پاکستانی اور ہر پاکستانی حکومتِ کی اول ترجیح پاکستانی معاشی مضبوطی ہونی چاہیئے۔ طاقت کے دیگر عناصر میں عسکری قوت کا سارا دارومدار معاشی وسائل کا مرہون منت ہوا کرتا ہے اور بدقسمتی سےپاکستانی معیشت عسکری قوت کو ایک لمبے عرصہ تک سپورٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پاکستان کے سالانہ بجٹ کا تیس سے چالیس فی صد تک حصہ تو محض قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جبکہ دفاع کی مد میں بھی ایک بڑا حصہ صرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو وقتی اقدامات کے ساتھ ساتھ دیگر ایسے دیرپا اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے جن سے پاکستان کوقرضوں سے نجات دلا کر ایک مُدت سے تسلسل سے جاری معاشی بحران سے نکالا جاسکے۔ دفاع کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی زندگیاں بہتر بنانے اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانے کے لیئےبھی معیشت کو بہتر بنانےکی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کو صدر ایوب دور جیسے پانچ سے دس سالہ معاشی منصوبے بناکر اُن پر کام کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فضل الہی کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں ہیں جس پر معاشی سال 2025/2026ء میں حکومت نے 1500 ارب روپے لیوی (ٹیکس) وصول کیا جبکہ اگلے سال کاہدف 1600 ارب روپے مقررکیا ہے جس سے مہنگائی میں مزید بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اُنکے مطابق پاکستان نے گذشتہ سال 8000 ارب روپے سُود پر، اور 4740 ارب روپے حکومتی مراعات اور آئی پی پی کو ادائیگی کی مد میں 3400 ارب روپے ( بشمول 2000 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹ) پر خرچ کیئے جو کُل ملا کر 14000ارب روپے بنتے ہیں اور اگر ان سے کسی طرح نجات حاصل کرلی جائے تو حکومت کوپٹرولیم پر کسی بھی قسم کی لیوی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ دراصل ڈاکٹر فضل الہی یہ فگرز اُس وقت سامنے لائے جب حکومتی وزیر "رانا ثناء اللّٰہ" نے عوام سے پٹرولیم لیوی کی وصولی کو حکومت کی مجبوری کے طور پر پیش کیا۔ یہ محض "فگرز ورک" نہیں بلکہ حکومت کو اسے سیریس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے اور ایسے ہی ہنگامی اقدامات پاکستان کو معاشی بُحران سے نکال سکتے ہیں۔
پاکستان کو اُس وقت تک معاشی طور پر مضبوط نہیں بنایا جاسکتا جب تک قوم کے ہرفرد کو اس پلان کا حصہ بنایا جائے۔ مختلف اشیاء خوردونوش اوردیگر فیلڈز میں سبسڈی مسئلے کا حل نہیں۔ اس طرح فری لنگر خانے اور دیگر ایسے اقدامات جن میں انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر عوام میں پیسوں کی تقسیم جیسے پروگرام شامل ہیں اس سے نہ ہی قومی معیشت کوفائدہ پہنچتا ہےاور نہ ہی عوام کوبلکہ ایسے اقدامات قوم کے ایک بڑے حصے کو تن آسان اور بھکاری بناتے۔ پاکستان ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جن کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوان نسل پر مُشتمل ہے لیکن بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے وہ مُلکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی بجائے سیاسی،مذہبی اور علاقائی منافرت میں الجھ کا مُلک میں انتشار پھیلانے والی قوتوں کاآلہ کار بنا ہوا ہے۔مضبوط معیشت کے لیئے پاکستان کے سامنے بنگلہ دیش کا "مائکروفنانس پروگرام" ایک بہترین ماڈل ہے۔ اسی طرح پاکستان چین سے سیکھ سکتاہے کہ چین نے کس طرح مُلکی معیشت کو مضبوط بنانےکے پراجیکٹ میں اپنی عوام کو بہتر انداز میں استعمال کیا ہے۔