ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی زیر صدارت نومبر کی انسداد پولیو مہم اور ستمبر کی مہم کے جائزہ اجلاس

ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی زیر صدارت نومبر کی انسداد پولیو مہم اور ستمبر کی مہم کے جائزہ اجلاس
حیدرآباد، 9 اکتوبر ( )، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن کی زیر صدارت نیو ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں انسداد پولیو مہم نومبر 2026 کی تیاریوں اور ستمبر کی مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) اور پولیو مہم کے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ایدیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو حیدرآباد مہوش برڑو ، ڈی ایچ او حیدرآبادڈاکٹر پیر غلام حسین ، شراکت دار اداروں کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں تک پولیو ویکسین کی رسائی کو یقینی بنانے، مہم کی مو¿ثر منصوبہ بندی اور بین المحکمہ رابطہ کاری کے ذریعے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندوں اور محکمہ صحت کے افسران نے گزشتہ مہم کی کارکردگی، فیلڈ میں رہ جانے والی خامیوں، مائیکرو پلانز، افرادی قوت، تربیت، کولڈ چین کی صورتحال اور آئندہ مہم کی تیاریوں کے متعلق تفصیلی آگاہی دی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے 8 نومبر 2026** تک جاری رہے گی جبکہ حیدرآباد میں ستمبر کے دوران لیے گئے آخری ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے لیے منفی آئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے ماحولیاتی نمونوں کے منفی آنے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ گزشتہ مہم کے دوران رہ جانے والے فیلڈ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کیا جائے۔ انہوں نے بالخصوص انکار کرنے والے، گھروں پر عدم دستیابی کے باعث ویکسین سے محروم رہ جانے والے اور مسڈ بچوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ انکار والے یونین کونسلز میں ترجیحی بنیادوں پر مو¿ثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی بچہ پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر پیر غلام حسین نے کمزور کوریج والے علاقوں اور گھرانوں کی نشاندہی کرکے فیلڈ ٹیموں کی تربیت میں حائل خامیوں کے خاتمہ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا- اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع میں 544 بچے انکاری جبکہ 7,636 بچے گزشتہ مہم کے بعد غیر موجود ہیں ان بچوں کی پروفائلنگ اور دوبارہ رسائی کے لیے موثراقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مائیکرو پلانز، ٹیموں کی استعداد، ویکسین کے معیار، نگرانی اور کوریج کے تمام پہلوو¿ں کو بہتر بناتے ہوئے آئندہ مہم کی تیاریاں مکمل کی جائیں اور تمام پانچ سال تک کے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھی جائیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *