حیدرابادسخی عبدالوہاب شاہ جیلانی ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج گلشن الہی قادری چشتی فریدی کی زیر سرپرستی اور صاحبزادہ مفتی حسان الہی قادری کی زیر نگرانی نو روزہ سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کے سلسلے میں پانچویں نشست کا دربار سخی پر انعقاد کیا گیا

حیدرابادسخی عبدالوہاب شاہ جیلانی ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج گلشن الہی قادری چشتی فریدی کی زیر سرپرستی اور صاحبزادہ مفتی حسان الہی قادری کی زیر نگرانی نو روزہ سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کے سلسلے میں پانچویں نشست کا دربار سخی پر انعقاد کیا گیا ملک کے معروف ممتاز عالم دین حضرت علامہ مولانا پیر محمد سلیمان مصباحی کہ فکر اور ولولہ انگیز خطاب نے شرکا پر ر قت طاری کر دی حضرت کا بیان سن کر شرکا کی انکھوں سے آنسو جاری ہو گئے پیر سلیمان مصباحی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں بھی دل سید درود پڑھنے والا اگر حیدراباد میں بھی بیٹھا ہو تو وہ مدینے کی فضاؤں میں پہنچ جاتا ہے انہوں نے کہا کہ جس دن ہم نے دل اور زبان کے درمیان ایک بالشت کا سفر محبت سے طے کر لیا اس دن ہم گلیوں میں دہائیاں دے رہے ہوں گے پیر سلیمان مصباحی نے کہا کہ قران کریم تو ہمارے پاس ہے اور اس سے فائدہ اغیار اٹھا رہے ہیں ہم ایک سرکل میں گھوم رہے ہیں سرکل سے باہر نکل نہ سکے ہم نالائق نہیں ہیں بنا دیے گئے ہیں حضرت موسی علیہ السلام امتی ہونے کی دعا مانگ رہے ہیں اور ہم نے اس امت کا کیا حال کر دیا ہے کوئی ایا اور لے کر چلا گیا کوئی عمر بھر بھی نہ پا سکا حالات اتنے خراب ہیں کہ امت صلاح الدین ایوبی محمد بن قاسم نور الدین زنگی عمر بن عبدالعزیز کو بھیجنے کی دعا تو مانگ رہی ہے مگر اپنی اصلاح کے لیے کوئی بھی تدبیر نہیں کر رہی اگر اج بھی ہمارے اسٹیج سے فکر کو بانٹنا شروع کر دیا جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں ہمیں کچھ نہیں کرنا صرف فکر بانٹنی ہے ذرا نم ہو مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی جنہوں نے مٹی نم کرنی تھی وہی اسٹیج پر ا کر کہنے لگے ٹینشن نہیں لینی دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو لگی اگ گھر کے چراغ سے باتیں پرانی ہیں مگر ہمارے اسٹیج سے کہنا چھوڑ دیا گیا ہے پہلے دور میں عشق کی سلامتی کی دعا مانگتے تھے اب تو ہم ایمان کی سلامتی کی بھی دعا نہیں مانگتے ہم اگے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں ہند الولی حضرت خواجہ غریب نواز کو بھی نور خدا لینے کے لیے 40 روز تک داتا علی ہجویری کے مزار پر بیٹھنا پڑا انہوں نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ کی طرف ائیں معرفت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے ہم نے بزرگوں سے لیا ہی کچھ نہیں نفس بندے کو اظہار کروانے پر مجبور کرتا ہے ہم شخصیت پرستی کا شکار ہیں انہوں نے اشعار کی زبان میں کہا کہ تو نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح ہماری بے وفائی پر بھی وہ اتنا پیار کرتے ہیں اگر ہم باوفا ہوتے تو کیا ہوتا محفل سے علامہ مولانا طلعت محمود عوان علامہ مولانا محمد شریف نقشبندی خطیب مسجد دربار سخی محمد طارق شاہ مولانا محمد علی حنفی نے بھی خطاب کیا بعد ازاں معروف نعت خواں الحاج خاور حسین محمود الحسن سید سلیمان گل سید حسان اللہ حسینی عدنان علی حسینی اغا زہیب علی علیم قادری مرزا فرخ بیگ سہروردی اور دیگر نے ہدیہ نعت بحضور سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور منقبت سیدنا غوث اعظم و دربار سیدنا سخی عبدالوہاب شاہ جیلانی پیش کرنے کی سعادت حاصل کی قبل ازیں پیر الحاج گلشن الہی قادری نے دربار سخی کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیا اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے اجتماعی دعا مانگی اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی ایڈوکیٹ راشد علی خان ایم کیو ایم پاکستان کے ڈسٹرکٹ اچارت محمد ظفر خان سنی تحریک کے محمد عابد قادری سراج راجپوت عابد قلندری محمد جمیل خان احسن ناغڑ مولانا احمد علی سعیدی کرامت راجپوت فیضان الہی حنان الہی محمد عارف نورانی امجد راجپوت پیر سعید کبیر شاہ سنگھانوی وسیع اللہ خان غوثیہ حال کے ڈاکٹر محمد اقبال شیخ سمیت عقیدت مندوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ بعض نماز جمعہ الحاج پیر گلشن الہی قادری چشتی فریدی کی رہائش گاہ گلشن جیلانی سے نکالا گیا جو مختلف راستوں سے ہوتا ہوا دربار سخی پہنچ کر اختتام پذیر ہوا اس موقع پر میئر حیدراباد کاشف علی خان شورو نے تقریب میں شرکت کی اور الحاج گلشن الہی کے ساتھ مل کر دربار سخی پر چادر چڑھائی اور دعا مانگی واضح رہے کہ حیدراباد سمیت ملک بھر سے زائرین اور عقیدت مندوں کی امد کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے اس دورانیے میں عقیدت مندوں کی جانب سے دربار سخی پر چادریں چڑھائی جا رہی ہیں محافل کے اختتام پر شرکا کے لیے لنگر کا خصوصی اہتمام بھی کیا جا رہا ہے

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *