
حیدراباد (بیورو رپورٹ ) جئے سندھ محاز کے چیئرمین ایڈوکیٹ عبدالخالق جونیجو اور صدر جمعیت علمائے سندھ مولوی محمود حسن کھڈا والا نےحیدراباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بحرانوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے نکلنے کا کوئی ایسا پرامن راستہ تلاش کرنا ضروری ہے جو سندھ کے لیے سیاسی استحکام اور سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد بن سکے انہوں نے کہا کہ سندھ بر صغیر کا جیسا خطہ ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں سیاسی اور معاشی استحصال کا شکار رہنے کے باوجود اپنے جداگانہ تشخص اور ثقافت کا حامل رہا ہے اور سندھ کے عوام اس شناخت کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے انہوں نے کہا انہوں نے کہا کہ سندھ کے برانوں کا مستقل حل 1940 کی قرارداد پر عمل کرنے پر پنہاں ہے لہذا اس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے اور ہم 1940 کی قرارداد پر عمل درامد کرانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ سندھ کے دارالحکومت کو سندھ سے جدا کیا گیا سندھ یونیورسٹی کو سندھ کے دارالحکومت سے بے دخل کر دیا گیا سندھ کے ساتھ ایک کالونی کا برتاؤ روا رکھا گیا کبھی ون یونٹ کے ذریعے چاروں وحدتوں کو ایک بڑا صبح قرار دے کر سندھ کے وسائل لوٹے گئے تو کبھی سندھ کی ڈیموگرافی کو تبدیل کیا گیا تو کبھی بلدیاتی نظام کو طاقتور بنانے کے بہانے سے براہ راست اسلام اباد کے تابع بنا کر سندھ سے سیاسی اور انتظامی اختیارات میں مداخلت کے طریقے اختیار کیے گئے