
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے لیکر آجتک کے پاکستانی حُکمرانوں تک کسی رہنماء نے مسئلہ کشمیر پر کبھی کسی قسم کی کوتاہی ،سُستی یا غفلت نہیں برتی۔ پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ پورا کشمیر کل بھی پاکستان کا حصہ تھا اور آج بھی ہے۔ پاکستانی عوام کشمیر کو پاکستان کی “شہ رگ”،کشمیریوں کو اپنے بہن بھائی اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہر پاکستانی اُن کے دُکھ درد میں ساتھی بھی ہے اور اُن کی تکلیف پر رنجیدہ بھی۔قائد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی “شہ رگ” کہا، ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور کشمیر پر بھارت کے ساتھ ہزار سال تک جنگ کرنے کا عزم دوہرایا۔ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا بھی کشمیر کے لیئے ہے اور مضبوط فوج بھی کشمیر کے لیئے ہی ہے۔ پاکستانی حکومتوں نے ہر دور میں، ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کو ہمیشہ ننگا کیا ہے۔ افواجِ پاکستان نے کشمیر پر ہی بھارت سے متعدد جنگیں بھی کی ہیں۔ آج بھی پاکستان کی آرمی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، میڈیکل کی مُفت سہولتوں کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش فراہم کرتی ہے۔
کشمیر میں تشدد کی حالیہ لہر کے پیچھے کون ہے اس میں دورائے نہیں لیکن بھارت یہ فتنہ برپا کرنے میں کامیاب کیسے ہوا؟ ریاستِ پاکستان، پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے سمجھنے کا یہ سب سے اہم موضوع ہے۔مختصراً بیان کردہ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ کشمیر کی پاکستان کے لیئے کیا اہمیت ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر بھارتی درندے جو کررہے ہیں وہ بیان سے باہر ہے اور کیا بھارتی حکمران یہی امپریشن دینا چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ جو انسانیت سوز سلوک بھارت کررہا ہے پاکستان بھی وہی کررہا ہے؟ بھارت اور “عوامی ایکشن کمیٹی میں چُھپے بھارتی گُماشتے اس میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کشمیریوں کے حقوق کے لیئے بنائی گئی کمیٹی کا مکروہ چہرہ ، بھارتی ایجنسی را کے ساتھ اس کے سرکردہ رہنماؤں کے تعلقات اور بھارتی ایجنڈا کُھل کر عوام کے سامنے آچُکے ہیں۔ اس کمیٹی کے سرکردہ رہنماؤں کی آڈیو لیک سے پتا چلتا ہے کہ کشمیری حکومت کی جانب سے اس کمیٹی کو کالعدم قرار دینا، دہشت گرد قرار دینا اور اس کی بھارت نواز قیادت پر کریک ڈاؤن سب مثبت اقدامات ہیں جن کے بارے کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیئے۔
لاشوں کے ان سوداگروں نے جس طرح پہلے کے پی کے اور بلوچستان میں بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر اُودھم مچایا اب یہی تاریخ یہ کشمیر میں بھی دوہرانا چاہتے ہیں۔ یہ گینگ کا افواجِ پاکستان کے ہاتھوں جو حشر کے پی کے اور بلوچستان میں ہوا، اس سے بدتر حشر ان کا کشمیر میں ہوگا کیونکہ کشمیری ایک نہایت ہی محنتی، مُحب وطن اور غیور قوم ہے اور کشمیر کا ہر بچہ ملتِ اسلامیہ، پاکستان اور کشمیر کی سلامتی کا “میدانِ حُر “ہے۔ غیور کشمیر عوام کو بھارت کا مکروہ ایجنڈا، کشمیریوں کی صفوں میں چُھپے لاشوں کے سوداگر اور کالی بھیڑوں کو پہچاننا ہوگا۔ ریاستِ پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی لیکن اس کے لیئے کشمیری عوام کو بھی دُشمن کا مکروہ ایجنڈا سمجھتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔ کشمیری عوام کے بُنیادی حقوق اور کشمیر کی آزادی ریاستِ پاکستان کے ہر فرد پر واجب ہے اور ریاستِ پاکستان اور سیکیورٹی کے ادارے کشمیری بہن بھائیوں کے مددگار اور محافظ ہیں۔ اپنی انسانیت کُش پالیسیوں کی وجہ سے بھارت اور بھارتی حواریوں کاہر میدان میں ذِلت اب مقدر ہے۔
کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعوٰی کرنے والی پارٹی ، پی ٹی آئی کے ورکرز کا کردار افسوسناک ہے۔ اس پارٹی کے سوش میڈیا پر بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ورکرز اور یو ٹیوبرز سے پاکستانی قوم سوال پوچھتی ہے کہ سیاسی بغض کی بنیاد پر تُم اتنے گرِ کیوں گئے ہو؟ کیا تُم لوگوں کے نزدیک جس وطن میں تُم رہتے ہو، جس سے مُحبت کے دعوے کرتے ہو یہی اُس کی محبت ہے کہ تُم پاکستان دُشمن ہر ایجنڈے کے ہمنوا بنکر اُسے پروموٹ کرو خواہ اس میں پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوں؟ یہ وہ وقت ہے کہ عوام کو کشمیریوں، ریاستِ پاکستان اور اپنے سیکیورٹی اداروں کا ساتھ دینا ہے جبکہ کُچھ بے وقوفوں کا گروہ دُشمن کا جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا پروموٹ کررہے ہو۔ بیرونِ ممالک بیٹھے بھگوڑے “پی ٹی آئی کاز پروموٹرز” ورکرز وہاں سے بیٹھ کر جس کشمیر کی صورتحال پر بیرونی ایجنڈے کا ساتھ دے رہے ہیں اس سے اُن کی نام نہاد حُب الوطنی کُھل کر سامنے آرہی ہے۔ پی ٹی آئی کی صفوں میں یقیناً کئی ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو ہر وطن دُشمن ہر ایکٹیوٹی کا حصہ بن کر عام ورکرز کو بھی گُمراہ کرتی ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ایک کشمیری رُکن نے جیسے دیگر ارکان کو ساتھ ملا کر پاکستانی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے اچھی بات ہے حُکومت پاکستان نے اسے مُسترد کر کے اچھا کام کیا ہے۔ پاکستانی بقاء اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ پاکستان کو اندر کی کالی بھیڑوں سے اچھی طرح پاک کیا جائے۔ اس کام کے لیئے ریاست کو کسی بین الاقوامی ادارے یا مُلک کے دباؤ کی رتی برابر بھی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں چُھپی پاکستان دُشمن کالی بھیڑوں کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن کی ضرورت ہے اور پاکستانی سیکیورٹی کے ادارے اللّٰہ کے فضل سے یہ کام کر بھی سکتے اور کر بھی رہے ہیں۔ ایسے میں مُحب وطن پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان دُشمن قوتوں، خواہ وہ میدان عمل میں ہوں یا سوشل میڈیا پر ہوں اُن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور ایسے مکروہ کرداروں کو پکڑ پکڑ کر سیکیورٹی اداروں کے حوالے کریں۔ کشمیری عوام مطمئن رہیں کیونکہ کشمیر کی بقاء اور سلامتی کا مطلب ہی پاکستان کی بقاء اور سلامتی ہے اور افواجِ پاکستان کشمیریوں کو کبھی مایوس نہیں کریں گی۔