
عقلِ سلیم
عوام کے ڈیٹا کا سودا کرنے والوں کے خلاف NCCIA کی بڑی کارروائی
عاطف امیر اور ان کی ٹیم خراجِ تحسین کی مستحق
کالم نگار: سیّد سلیم شہزاد جیلانی
عوام کی محنت کی کمائی، ان کی ذاتی معلومات اور مالی معاملات کا تحفظ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں جہاں بینکاری اور شناختی تصدیق کے نظام نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں حساس معلومات کے ناجائز استعمال نے عام شہریوں کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے شہریوں کے حساس ڈیٹا کی مبینہ فروخت کے معاملے میں ایک بینک آپریشنز منیجر کو حراست میں لینا ایک اہم کارروائی ہے، جس پر ادارے کی کوششوں کو سراہنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، NCCIA لاہور زون نے عارف والا میں ایک بینک برانچ کے آپریشنز منیجر عرفان اشرف کو حراست میں لیا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ نادرا کے Verisys نظام تک اپنی مجاز رسائی کا مبینہ غلط استعمال کرتے ہوئے شہریوں کا حساس شناختی ڈیٹا حاصل کرتا اور اسے آن لائن فراڈ میں ملوث افراد کو فروخت کرتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ اس کے موبائل فون کی تکنیکی جانچ کے دوران واٹس ایپ پر شہریوں کے ہزاروں شناختی ریکارڈ سے متعلق گفتگو سامنے آئی۔ ان معلومات کی مکمل نوعیت، استعمال اور اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا تعین تحقیقات کے ذریعے ہونا ہے۔
چند سو روپے کے عوض شہریوں کی معلومات کا مبینہ سودا!
یہ خبر کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر کسی ذمہ دار عہدے پر موجود شخص کو شہریوں کے حساس ریکارڈ تک رسائی حاصل ہو اور وہی شخص مبینہ طور پر اس رسائی کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے لگے تو عوام کا اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟
بینک اور شناختی تصدیق کے نظام شہریوں کی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان معلومات کا غیر مجاز استعمال لوگوں کو جعل سازی، شناخت کے غلط استعمال اور مالی دھوکہ دہی جیسے خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ چند پیسوں کے عوض کسی شہری کی نجی معلومات فروخت کرنا، اگر ثابت ہو جائے، تو محض اخلاقی بددیانتی نہیں بلکہ ایک سنگین قانونی معاملہ بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس کیس میں بزرگ اور وفات پا چکے شہریوں کے شناختی ریکارڈ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایسے افراد کے ڈیٹا کا غلط استعمال انتہائی تشویش ناک ہے، کیونکہ ان کی شناخت یا خاندانی معلومات کو دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرنے سے ان کے اہلِ خانہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
NCCIA کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کو خراجِ تحسین
اس کارروائی کے حوالے سے NCCIA لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جناب عاطف امیر اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ شہریوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایسے معاملات کی نشاندہی، شواہد کی بنیاد پر تفتیش اور ممکنہ فراڈ نیٹ ورکس تک پہنچنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔
ہم جناب عاطف امیر اور ان کی ٹیم کو اس کارروائی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ ادارہ اسی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مستعدی کے ساتھ سائبر کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب عاطف امیر سمیت عوام کے تحفظ کے لیے فرائض انجام دینے والے تمام اہلکاروں کو صحت، سلامتی، ہمت اور استقامت عطا فرمائے۔ انہیں دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے اور عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق دے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے
کسی ایک ملزم کی گرفتاری اہم ضرور ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب اس پورے معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے۔ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ شہریوں کا ڈیٹا کس طریقے سے حاصل کیا گیا، اسے کن افراد تک پہنچایا گیا، ادائیگیوں کا نظام کیا تھا اور کیا اس مبینہ نیٹ ورک میں مزید افراد بھی شامل ہیں؟
بینکوں اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے ملازمین کی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں، غیر معمولی ڈیٹا رسائی کا ریکارڈ محفوظ رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی کریں۔ ڈیٹا سکیورٹی صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی دیانت داری اور جواب دہی کا بھی تقاضا کرتی ہے۔
ساتھ ہی یہ اصول بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ کسی بھی گرفتار شخص کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ شفاف تحقیقات ہی انصاف اور اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط بناتی ہیں۔
عوام بھی احتیاط کو اپنا شعار بنائیں
شہریوں کو چاہیے کہ اپنا بینک پن، پاس ورڈ، او ٹی پی اور کارڈ کی خفیہ معلومات کسی غیر متعلقہ شخص کو نہ دیں۔ کسی نامعلوم کال یا پیغام پر اپنی مالی معلومات فراہم کرنے کے بجائے متعلقہ بینک کے تصدیق شدہ رابطے سے رجوع کریں۔ اگر کسی مشکوک لین دین یا شناختی معلومات کے غلط استعمال کا شبہ ہو تو فوراً متعلقہ بینک اور متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ بزرگ شہریوں اور ڈیجیٹل بینکاری سے کم واقف افراد کو فراڈ کے نئے طریقوں سے آگاہ کیا جائے، تاکہ کوئی جعل ساز ان کی لاعلمی یا اعتماد سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
آخری بات: عوام کا اعتماد ہی اصل کامیابی ہے
عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ ہم ان اداروں کی حوصلہ افزائی کریں جو عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ NCCIA کی اس کارروائی سے امید پیدا ہوتی ہے کہ شہریوں کے حساس ڈیٹا کے مبینہ غیر قانونی استعمال اور آن لائن فراڈ کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
ہم جناب عاطف امیر اور NCCIA کی پوری ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامیابی عطا فرمائے۔ امید ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا اور شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے مزید مضبوط اقدامات کیے جائیں گے۔
یاد رکھیے، عوام کا ڈیٹا محض چند پیسوں میں فروخت ہونے والی چیز نہیں، بلکہ ان کی شناخت، نجی زندگی اور اعتماد کا معاملہ ہے۔ اس اعتماد کی حفاظت ریاست، اداروں اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
رائٹر: سیّد سلیم شہزاد جیلانی
ماخذ: 10 اور 11 اکتوبر 2026 کی میڈیا رپورٹس۔ ملزم سے متعلق الزامات ابتدائی تحقیقات سے منسوب ہیں اور ان کا حتمی تعین قانونی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔