حیدآباد سرکاری دفاتر سے افسران کی غیر حاضری معمول بن گئی؛ سائلین شدید مشکلات اور ڈپریشن کا شکار۔ وزیر اعلی سندھ اور چیف سیکریٹری صورتحال کا نوٹس لیں۔ سرکاری اوقات کے دوران نجی تقریبات میں افسران کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے عوامی حلقوں کا مطالبہ۔
سرکاری دفاتر میں طے شدہ اوقاتِ کار کے دوران افسرانِ کی غیر حاضری ایک معمول بن چکی ہے، جس کے باعث اپنے جائز کاموں اور مسائل کے حل کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور زیر التواء مسائل کا انبار لگ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر میں امن و امان اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور عوامی مسائل کے تدارک پر توجہ دینے کے بجائے متعلقہ افسران اپنے قیمتی وقت کا بڑا حصہ نجی تقریبات میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کرنے اور سماجی محفلوں میں گزار رہے ہیں۔ جو وقت شہریوں کی داد رسی اور دفاتر میں بیٹھ کر عوامی خدمات کے لیے مختص ہونا چاہیے، وہ نجی و غیر رسمی سرگرمیوں کی نذر ہو رہا ہے۔اور سائیلین دفاتر پہنچکر گھنٹوں افسران کا انتظار کرتے دکھائ دیتے ہیں
دفاتر کے چکر کاٹنے والے شہریوں اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلسل کئی کئی روز تک افسران سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے ان کے اہم مسائل التوا کا شکار ہیں، جس سے عوام میں شدید ذہنی ڈپریشن، بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔ ضعیف العمر، خواتین اور دور دراز کے علاقوں سے آنے والے سائلین گھنٹوں انتظار کے بعد خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔
شہری سماجی و عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ دفاتر میں افسران کی حاضری کو یقینی بنانے اور اوقاتِ کار کے دوران نجی تقریبات میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سائلین کے مسائل کی بروقت سماعت کے لیے سخت حکمتِ عملی وضع کی جائے تاکہ عوام کو بلا تاخیر انصاف اور رلیف مل سکے واضح رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے حیدراباد میں مہنگائی کا طوفان ایا ہوا ہے اس کے برعکس ضلعی انتظامیہ محض رسمی کاروائیوں کے علاوہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے حیدراباد کے شہری گندم اٹا دودھ کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوش رباء اضافے سے انتہائی پریشانی میں مبتلا ہیں اس وقت حیدراباد میں فی کلو ایل پی جی 580 روپے بلیک میں فروخت کی جا رہی ہے جبکہ اوگرا کی جانب سے قیمت 279 روپے مقرر ہے ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شہریوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوتے جا رہے ہیں جبکہ گندم اٹا اور دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے بھی شہری شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں اس کے مقابلے میں ضلعی انتظامیہ اور ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی سب ٹھیک ہے کا راگ الاپ رہی ہے جبکہ حقائق اس سے برعکس دکھائی دیتے ہیں عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو عوام کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ذخیرہ اندوزوں ناجائز منافع خوروں کے خلاف نمائشی کاروائیاں تو ہوتی ہیں مگر اس سے اشیاء خرد و نوش کی قیمتیں کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی عوامی حلقوں نے ایک مرتبہ پھر وزیراعلی اور چیف سیکرٹری سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ افسران کو دفتری اوقات میں دفاتر میں پابندی سے بیٹھنے اور عوامی مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کا پابند بنایا جائے۔
Posted inکراچی