پنجاب اور سندھ کی مزید صوبوں میں تقسیم اوربہتر گورننس

پنجاب اور سندھ کی مزید صوبوں میں تقسیم اوربہتر گورننس
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
پاکستان دُنیا کی واحداسلامی ایٹمی قوت ہے جس کی عسکری قوت کو اقوامِ عالم تسلیم کرتی ہیں اور اس کو نہ تو کوئی سُپر پاور اگنورکرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی اسے محکوم بناسکتا ہے۔ البتہ! پاکستان کے کُچھ اندرونی مسائل ایسے ہیں جن کی بنا پر پاکستان کی سالمیت اور بقاء پر بھی اکثر اوقات بین الاقوامی معروف مُفکر سوالات اُٹھاتے رہتے ہیں۔ ایسا آخر کیوں ہے؟ آج مُلکِ پاکستان “مسائلستان” بنا ہوا ہے؟ ایک مُدت سے اندرونی انتشار، سیاسی عدمِ استحکام اور معاشی کمزوری اسے اُٹھنے نہیں دے رہے۔ بُنیادی سہولتوں کے مکمل فقدان، بے روزگاری، مہنگائی اور مسلسل انتشار کی وجہ سے پاکستانی عوام بُلبلا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کی بانی قیادت کے نظریات کے مطابق پاکستان کو ایک “ماڈرن ڈیمو کریٹک ریاست” یعنی “جدید اسلامی فلاحی ریاست” بننا تھا۔ آج اگرپاکستان کے معروضی حالات میں دیانتدارانہ جائزہ لیاجائے تو اندازہ ہوگا کہ نہ تو پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور نہ ہی فلاحی اور جمہوری مُلک۔ پاکستان کے تمام مسائل ایک طرف لیکن اس کے گورننس سسٹم کی خرابی ایک طرف رکھیں تو یہ مساوی تقسیم ہوگی۔
مردم شماری 2023ء کے مطابق تقریباً 24 کروڑ 15 افراد پر مُشتمل پاکستان چار بڑے صوبوں کے علاوہ اسلام آباد (دارالحکومت کا علاقہ)، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر یعنی سات انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہےاور یہ انتظامی تقسیم انتہائی غیرمُتوازن ہے۔ مثال کے طور پر ایران کی کل آبادی تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ ہے اور اسے انتظامی طور پر 31 صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ امریکی کی کل آبادی 50 ریاستوں (صوبوں) اور ایک وفاقی دارالحکومت پر مُشتمل مُلک امریکہ کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اسی طرح جاپان کی کل آبادی تقریباً 12 کروڑ 30 لاکھ ہےجبکہ انتظامی لحاظ سے جاپان کو 47 پری فیکچرز (صوبوں) میں تقسیم کیا گیا۔ اسی طرح فرانس کی آبادی تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 80 لاکھ کے درمیان ہے جبکہ یہ ملک 18 انتظامی خطوں یا علاقوں پر مُشتمل ہے۔ ملائیشیا کی کل آبادی تقریباً 34.4 ملین سے 36.4 ملین کے درمیان ہے اور یہ انتظامی طور پر 13 ریاستوں (صوبوں) اور 3 وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح روس کی کل آبادی تقریباً 146 ملین ہے جبکہ پورا مُلک 89 وفاقی اکائیوں پر مشتمل ہے۔
پاکستان کے تمام مسائل اور عدمِ استحکام کی دو بُنیادی وجوہات ہیں جن میں ایک تو دُنیا کی واحدایٹمی اسلامی قوت اور اپنی اہم جیوگرافیکل پر لوکیشن کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی لیول کی سیاست میں اپنے قیام سے لیکر آج تک ہمیشہ انگیج رہا ہے جس کے فوائدکے ساتھ ساتھ مضمرات بھی ہیں جو پاکستان میں بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت کو آسان بناتے ہیں۔ دوسرے نمبر پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں جس میں سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے جس سے کرپشن، اقربا پروری، وسائل کی صوبوں میں تقسیم اور بے چینی، سیاسی کشمکش اور معاشی کمزوری جیسے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں جو نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست بنانے سے روکتے ہیں۔ گورننس کو بہتر اور اسمارٹ بنائے بغیر کسی مسئلے کا حل ناممکن ہے اور گورننس پنجاب اور سندھ کو مزید صوبوں میں تقسیم کیئے بغیربہتر کی نہیں جاسکتی۔ پنجاب کو آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کی آبادی پورے روس کے قریب،جاپان کے برابر، ایران، ملائیشیا، فرانس اور برطانیہ سے زیادہ ہے۔ اسی طرح سندھ کی آبادی فرانس اور برطانیہ کے قریب ہے۔
بُنیادی طور پر کسی بھی مُلک میں جمہوری نظام حکومت ہو یا دیگر کوئی بھی گورننس سسٹم، اس وقت دُنیا میں گورننس کے دو ہی ماڈل اور یونٹس رائج ہیں جن میں ایک وفاق ( مرکزی حکومت) اور دوسرا انتظامی یونٹس (صوبے)۔ معروضی حالات یا جیوگرافیکل لوکیشن کے حساب سے وفاق اور انتظامی یونٹس کے اختیارات اور فرائض میں توازن کسی بھی مُلک کی طاقت ہوا کرتے ہیں۔ اورریاستی آئین یہ توازن پیدا کرتا ہےجسے کو بنانا کسی بھی ریاستی قیادت کا کام جبکہ اس پر عملدرآمد حکومتی مشینری کا کام ہوا کرتاہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس کی دو بڑی سیاسی نظریاتی حریف پارٹیاں (نون لیگ اور پیپلز پارٹی) چار صوبوں میں سے دو صوبوں کو ایک مُدت سے چلارہی ہیں۔ اگرسادہ الفاظ میں یہ کہا جائے کہ چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے لیئے ان دوصوبوں میں اقتدارمیں آنا ناممکن ہے پاکستان کے دو دیگرصوبوں (خیبر پختونخواہ اور بلوچستان) میں ہمیشہ سے ہی مخلوط حکومت رہی ہے اور یہ حکومتیں بھی وفاقی حکومت کے رحم وکرم پر ہوتی ہیں کہ وہ جب چاہیں چھوٹی مقامی پارٹیوں کے ساتھ جوڑ توڑ کر کے ان کو گرادیں۔
سن 2017ء میں مرکز اور پھر سن 2021ء میں خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے کے بعد پی ٹی آئی اب تیسرے صوبے پر مسلسل حکومت بنانے والی پارٹی بن گئی ہے۔ سن 2021ء میں پی ٹی آئی کی حکومت کو نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے جب سے ملکر گرایا ہے تب سے خیبر پختونخواہ حکومت مرکزی حکومت کی بالکل مخالف سمت میں سفر کررہی ہے۔ مُلک کے دیگرمسائل کو بھی اس وقت حل نہیں کیا جاسکتا جب تک سیاسی انتشاراور عدم استحکام کا مسئلہ حل نہ کیاجائے۔ کُچھ نام نہاد مُفکر و مبصر اور وی لاگرز صوبوں کی تقسیم کو “ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پولیٹیکل چِپ یا سیاسی حکومت تبدیل کرنے کالیور” بنا کر پیش کررہے ہیں یہ وطن دُشمنی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب اور سندھ پر ایک مُدت سےحکومت کرنے والی پارٹیاں مُلکی مُفاد کی خاطر اپنی سیاسی اجارہ داری کی قربانی دینے پر رضامند ہوجائیں گی؟ مُلک سے وفاداری، حُب الوطنی اور مُفاد کے لیئے پنجاب اور سندھ کی مزیدصوبوں میں تقسیم نون لیگ اور پیپلزپارٹی کا “لِٹمَس ٹیسٹ” ہے جس کو پاس کرکے وہ مؤورثی سیاست کے داغ کو بھی دھویا جاسکتا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *